متحدہ عرب امارات

بھارتی طالب علم کا دعویٰ: سی بی ایس ای نے آن اسکرین مارکنگ نظام میں قواعد تبدیل کر کے مخصوص کمپنی کو فائدہ دیا

خلیج اردو
بھارت میں کلاس 12 کے طالب علم سارتھک سدھانت نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی تعلیمی بورڈ Central Board of Secondary Education (CBSE) نے امتحانی پرچوں کی آن اسکرین مارکنگ کے نئے نظام میں مبینہ طور پر قواعد تبدیل کر کے ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچایا۔

سارتھک سدھانت نے نئی دہلی میں پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم کے سامنے پیش ہو کر کہا کہ ٹینڈرز کے عمل میں متعدد بار تبدیلیاں کی گئیں اور قواعد کو بار بار دوبارہ لکھا گیا تاکہ ایک مخصوص کمپنی COEMPT ایڈوٹیک کو فائدہ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اس وقت ہوئیں جب سی بی ایس ای نے آن اسکرین مارکنگ (OSM) کے نام سے نیا ڈیجیٹل جانچ نظام متعارف کرایا، جس کے تحت کروڑوں طلبہ کے نتائج تیار کیے جا رہے ہیں۔

طالب علم کے مطابق انہوں نے یہ تحقیقات اس وقت شروع کیں جب ایک اور طالب علم اور ایتھیکل ہیکر نے سی بی ایس ای پورٹل میں موجود سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں یہ سامنے آیا کہ یہ خامیاں اسی کمپنی کے سافٹ ویئر سے منسلک تھیں جسے بعد میں معاہدہ دیا گیا۔

سارتھک نے دعویٰ کیا کہ ٹینڈر تین بار جاری اور منسوخ کیا گیا، جبکہ آخری بار معاہدہ حاصل کرنے والی کمپنی کو صرف 74 دن پہلے مکمل نظام نافذ کرنے کے لیے وقت دیا گیا، جس کے باعث تیاری ناکافی رہی۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک ترمیمی نوٹیفکیشن کے ذریعے سی بی ایس ای کے پاس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کا اختیار بھی محدود کر دیا گیا، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

سارتھک نے مزید کہا کہ متعلقہ کمپنی کے سافٹ ویئر میں پہلے بھی تکنیکی مسائل رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے باعث نتائج میں سنگین خرابیاں سامنے آئیں اور طلبہ متاثر ہوئے۔

بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یا تو فیصلے کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے، یا پھر جان بوجھ کر مخصوص کمپنی کو فائدہ دیا گیا ہے۔

یہ معاملہ بھارت میں آن اسکرین مارکنگ نظام، ڈیجیٹل امتحانی سسٹمز اور تعلیمی شفافیت کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جبکہ سارتھک نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ڈیجیٹل گورننس اور پبلک پالیسی کے شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button