متحدہ عرب امارات

صدر شیخ محمد بن زاید کا جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کا تقرر، حامد الکعبی کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے وفاقی فرمان کے ذریعے حامد علی محمد الکعبی کو فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا ہے۔

سرکاری اعلان کے مطابق یہ تقرری 7 جون کو جاری کیے گئے وفاقی فرمان کے تحت عمل میں آئی۔ حامد الکعبی اس سے قبل اتھارٹی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

وہ جوہری توانائی، جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ سے متعلق معاملات میں متحدہ عرب امارات اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان اہم رابطہ کار بھی رہے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مختلف معاملات میں امارات کی نمائندگی کی۔

حامد الکعبی نے امریکہ کی پرڈیو یونیورسٹی سے نیوکلیئر انجینئرنگ میں بیچلر اور ماسٹر ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ انہیں متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں سفارتی خدمات کے اعتراف میں آرڈر آف زاید، سیکنڈ کلاس سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران امارات کے پرامن جوہری توانائی پروگرام کی ترقی، جوہری سلامتی اور عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

نئے ڈائریکٹر جنرل سے قبل یہ عہدہ جوہری طبیعیات کے ماہر کرسٹر وکٹرسن کے پاس تھا، جو 2015 سے اس ذمہ داری پر فائز تھے اور جوہری تحفظ و ریگولیشن کے شعبے میں 35 سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں۔

فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن متحدہ عرب امارات کا آزاد ریگولیٹری ادارہ ہے جو جوہری سلامتی، سکیورٹی، تابکاری سے تحفظ اور بین الاقوامی جوہری معاہدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرتا ہے۔

یہ ادارہ 2009 میں مرحوم صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کی جانب سے جاری کردہ پرامن جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق وفاقی قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اتھارٹی ملک میں جوہری بجلی گھروں کے ڈیزائن، تعمیر، آپریشن اور بندش کے مراحل کی نگرانی کے علاوہ طب، تحقیق اور صنعت میں استعمال ہونے والے تابکار مواد کی ریگولیشن بھی کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button