پاکستانی خبریں

پشاور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ، جج ہمایوں دلاور کے خلاف مقدمہ بدنیتی پر مبنی قرار، متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم

خلیج اردو
پشاور ہائیکورٹ بنوں بینچ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے درج مقدمے کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ جج ہمایوں دلاور کے خلاف انکوائری اور ایف آئی آر کا اندراج خیبرپختونخوا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 1999 اور دیگر قانونی تقاضوں کے منافی تھا۔ فیصلے کے مطابق کارروائی کے دوران غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ کیا گیا، قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا اور اہم حقائق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ جج ہمایوں دلاور ایک حاضر سروس سینئر جوڈیشل افسر ہیں اور وہ ماضی میں اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج کی حیثیت سے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ مقدمے کا فیصلہ سنا چکے ہیں۔ عدالت کے مطابق مقدمے کے پس منظر، دستیاب ریکارڈ اور واقعاتی ترتیب سے بدنیتی اور غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ اینٹی کرپشن حکام کے کردار کا جائزہ لینے، ذمہ دار افسران کا تعین کرنے اور قانون کے مطابق محکمانہ کارروائی عمل میں لانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ 60 روز کے اندر تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

یہ فیصلہ نہ صرف جج ہمایوں دلاور کے خلاف کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتا ہے بلکہ سرکاری اداروں کی قانونی ذمہ داریوں اور اختیارات کے استعمال پر بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button