متحدہ عرب امارات

12 اگست کے 4 فلکیاتی واقعات: یو اے ای کے فلکیاتی مرکز نے میڈیا رپورٹس کی وضاحت کردی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے فلکیاتی مرکز نے بدھ 12 اگست 2026 کو پیش آنے والے چار فلکیاتی واقعات سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ان واقعات کی اہمیت اور دیکھائی دینے کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

فلکیاتی مرکز کے مطابق آج مکمل سورج گرہن، پرسیڈز میٹیور شاور، سیاروں کی موجودگی اور نیا چاند چار الگ فلکیاتی مظاہر رونما ہوں گے، تاہم ان میں سے ہر واقعہ یو اے ای یا عرب خطے سے واضح طور پر نظر نہیں آئے گا۔

مکمل سورج گرہن سائبیریا، قطب شمالی، گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمال مشرقی بحر اوقیانوس، اسپین اور مغربی بحیرہ روم کے علاقوں سے دیکھا جاسکے گا۔ شمالی امریکا، مغربی و وسطی یورپ، روس اور مغربی افریقہ کے بعض علاقوں میں یہ جزوی سورج گرہن کی صورت میں نظر آئے گا۔

دوسری جانب پرسیڈز میٹیور شاور 17 جولائی سے 24 اگست تک جاری رہتا ہے اور 11 سے 14 اگست کے دوران اس کی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ فلکیاتی مرکز کے مطابق اس سال عرب خطے میں اسے دیکھنے کے حالات بہتر ہیں کیونکہ نئے چاند کے باعث چاندنی موجود نہیں ہوگی۔ یہ شہابیے بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم شہری علاقوں میں روشنی کی آلودگی کے باعث صرف چند شہابیے ہی نظر آنے کا امکان ہے۔

سیاروں کی نام نہاد خصوصی قطار کے حوالے سے فلکیاتی مرکز نے سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔ مرکز کے مطابق سیارے ہمیشہ آسمان میں ایک فرضی لکیر یعنی دائرۃ البروج کے قریب نظر آتے ہیں۔

بدھ کی رات سورج غروب ہونے کے بعد سے جمعرات کی صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے تک زہرہ، زحل، مریخ، عطارد اور مشتری افق کے اوپر مختلف اوقات میں موجود ہوں گے، تاہم سورج سے قربت کے باعث عطارد اور مشتری تقریباً نظر نہیں آئیں گے جبکہ دیگر سیاروں کو بھی غیر تربیت یافتہ آنکھ سے دیکھنا مشکل ہوگا۔ زہرہ نسبتاً روشن ہونے کی وجہ سے بدھ کی شام واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

چوتھا واقعہ نیا چاند ہے، جسے فلکیاتی مرکز نے ایک معمول کا فلکیاتی مرحلہ قرار دیا ہے۔ مرکز کے مطابق سوشل میڈیا پر نئے چاند سے متعلق خصوصی خصوصیات یا غیر معمولی اثرات کی جو باتیں کی جارہی ہیں وہ درست نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button