متحدہ عرب امارات

دبئی: ایمازون ویب سروسز کی عالمی خرابی کے باعث یو اے ای میں کاروباری نظام متاثر، ماہرین نے بیک اپ پلان پر زور دے دیا

خلیج اردو
دبئی، 20 اکتوبر 2025
ایمازون ویب سروسز (AWS) میں آنے والی عالمی خرابی کے باعث متحدہ عرب امارات میں متعدد کاروبار اور آن لائن پلیٹ فارمز متاثر ہوئے، جس سے مختلف کمپنیوں اور انٹرپرینیورز کو اپنے کام میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دبئی کی انٹرپرینیور جین بلانڈوس، جو نیٹ ورکنگ گروپ "فی میل فیوژن” کی بانی اور سی ای او ہیں، نے بتایا کہ ان کے کاروبار میں استعمال ہونے والے تقریباً 50 فیصد ٹولز بند ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ایک ٹیکنالوجی بزنس ہیں، اور ہمارے تقریباً نصف پلیٹ فارمز کام نہیں کر رہے تھے۔ ہمارا مرکزی پلیٹ فارم ‘Kajabi’ بند تھا۔ ہمیں باقاعدگی سے اپ ڈیٹس مل رہی تھیں، لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے سوائے انتظار کے۔ کئی لوگوں کو Zoom، Canva اور کچھ AI پلیٹ فارمز جیسے Perplexity تک رسائی میں بھی دشواری ہوئی۔”

پیر کے روز ہونے والی اس خرابی سے Roblox، Snapchat، Fortnite اور Amazon.com جیسی مقبول ویب سائٹس بھی متاثر ہوئیں۔ تقریباً تین گھنٹے بعد AWS نے تصدیق کی کہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور بیشتر سروسز معمول پر آ گئی ہیں۔

جین بلانڈوس کے مطابق، ان کی کمپنی کے پاس آن لائن اور آف لائن دونوں صورتوں میں ڈیٹا کا بیک اپ موجود تھا جس کی بدولت وہ اپنے کام کو بڑی حد تک جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنا رابطہ ڈیٹا ہر ہفتے آف لائن بھی ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، اسی وجہ سے ہم کام رکنے کے باوجود کلائنٹ سے رابطہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔”

ٹیکنالوجی ماہرین نے کہا کہ یہ واقعہ کاروباروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر انحصار ایک ہی سروس فراہم کنندہ پر نہ رکھیں۔ پینجیا ایکس کے سی ای او جد ایلیٹ ڈب نے کہا، "AWS کا یہ مسئلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی بھی بزنس کی پائیداری صرف ایک پلیٹ فارم پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ کمپنیوں کو ملٹی ریجن یا ہائبرڈ سسٹم کے ذریعے بیک اپ تیار رکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی خلل کے وقت کام متاثر نہ ہو۔”

دبئی کی آئی ٹی کمپنی "آئی ٹی میکس گلوبل” نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ اس خرابی نے کاروباری نوعیت کے اہم سسٹمز، کری ایٹو پلیٹ فارمز اور صارفین کے مقبول ایپس کو متاثر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ "Autodesk، Monday.com، Jira، Frame.io، Typeform اور Canva جیسے ٹولز بند ہونے سے انجینئرز، ڈیزائنرز اور کری ایٹیو ٹیموں کے کام میں نمایاں رکاوٹ آئی۔”

میڈیا پروفیشنل میتا سرینواسن نے بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ شیڈول شدہ Zoom میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکیں اور بعد ازاں Google Meet پر منتقل ہونا پڑا۔ ان کے مطابق، "چھوٹے کاروبار جو مکمل طور پر آن لائن نظام پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے اس طرح کی آؤٹیج نہ صرف پریشان کن بلکہ مہنگی بھی ثابت ہوتی ہے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button