پاکستانی خبریں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد موجود ہے، افغان رجیم کا اعتراض بے بنیاد ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

خلیج اردو
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان رجیم بارڈر پر اعتراض کرتی ہے اور اسے ڈیورنڈ لائن کہتی ہے، حالانکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک تسلیم شدہ انٹرنیشنل بارڈر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد ڈیورنڈ لائن کے معاملے کو پاکستان نے کبھی متنازع نہیں مانا۔

اے آر وائے نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان رجیم بارڈر کو جو بھی نام دے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان واضح سرحد موجود ہے۔ اس وقت افغان طالبان رجیم کے بیانات سے زیادہ معاہدے کی شقیں اہم ہیں، کیونکہ اصل گفتگو معاہدے میں درج ہے۔

وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر سیز فائر کی خلاف ورزیاں بڑھتی رہیں تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف سے مؤثر ہونی چاہیے اور پاکستان اپنی سرحدی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی صورتِ حال پر مستقل نگرانی ضروری ہے، جبکہ عسکری اور سول اداروں کے درمیان روابط کو مزید مربوط کرنا ہوگا۔ سلامتی کے اقدامات انسانی اقدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے چاہئیں۔

خواجہ آصف نے زور دیا کہ میڈیا اور عوام کو شفاف معلومات فراہم کرنا ریاستی فریضہ ہے، علاقائی اختلافات کو سیاسی نعروں کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا، اور پاکستان اپنی سرحدی حکمت عملی میں ہمسایہ ممالک سے مذاکرات جاری رکھے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button