
خلیج اردو
دبئی میں تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے کے بعد والدین اب بھی اس الجھن میں ہیں کہ اس ٹرم میں اسکول فیس، ٹرانسپورٹ چارجز اور ممکنہ ریفنڈز کی کیا صورتحال ہوگی۔
دبئی کے تعلیمی ریگولیٹر نالج اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق اگرچہ کچھ اسکولز نے کلاس روم تدریس بحال کر دی ہے، تاہم آن لائن یا متبادل تدریس کے دوران بھی مکمل فیس ادا کرنا لازمی ہے۔
پالیسی کے مطابق اگر اسکول منظور شدہ فاصلاتی تعلیم فراہم کر رہا ہے تو فیس میں کوئی کمی، رعایت یا معافی نہیں دی جائے گی۔ والدین کو یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آن لائن تعلیم سے عدم اطمینان کی بنیاد پر فیس روکنا جائز نہیں ہوگا۔
ریگولیٹر نے کہا ہے کہ صرف اسی صورت میں ریفنڈ دیا جائے گا جب تعلیمی سروس مکمل طور پر فراہم نہ کی گئی ہو۔ ایسی صورت میں اسکولز کو کریڈٹ نوٹ، بہن بھائی کی منتقلی یا مکمل ریفنڈ دینا ہوگا۔
ٹرانسپورٹ چارجز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ عموماً سالانہ بنیاد پر ہوتے ہیں، تاہم بعض ادارے حالات کے مطابق جزوی رعایت یا استعمال کے مطابق چارجز لاگو کر رہے ہیں۔ کچھ ٹرانسپورٹ سروسز نے محدود ریلیف کے طور پر اپریل کے لیے رعایت بھی دی ہے۔
ریفنڈز کے حساب کے بارے میں بھی واضح ٹائم لائن دی گئی ہے، جس کے مطابق تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے انخلا پر مکمل ریفنڈ (کچھ فیس کٹوتی کے ساتھ)، دو ہفتوں تک ایک ماہ کی فیس کٹوتی، اور ایک ماہ سے زائد عرصے پر مکمل ٹرم فیس برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ اسکول چھوڑنے کی صورت میں والدین کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کی تاریخ ہی اصل بنیاد سمجھی جائے گی، جو ریفنڈ کے حساب میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسکول اخراجات کے حوالے سے اندازہ ہے کہ ایک بچے کے لیے سالانہ اخراجات چند سو سے لے کر ہزاروں درہم تک جا سکتے ہیں، جس میں یونیفارم، جوتے، بیگز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز شامل ہیں۔
اس وقت مختلف اسکولز والدین کے ساتھ لچکدار ادائیگی پلان اور کیس ٹو کیس بنیاد پر سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔







