
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن نے واضح کیا ہے کہ ویج پروٹیکشن سسٹم (ڈبلیو پی ایس) میں یکم جون سے نافذ ہونے والی نئی تبدیلیاں آجروں پر کوئی نئی بنیادی ذمہ داریاں عائد نہیں کرتیں، بلکہ ان کا مقصد تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق نگرانی، شفافیت اور انتظامی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت وزارت کے دائرہ کار میں آنے والی نجی شعبے کی کمپنیوں کے لیے ہر ماہ کی پہلی تاریخ تک تنخواہوں کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے۔ اس تاریخ کے بعد ادا کی جانے والی تنخواہ کو نظام میں تاخیر شدہ ادائیگی تصور کیا جائے گا۔
وزارت کے مطابق اس اقدام سے تنخواہوں کی ادائیگی کی نگرانی کا عمل زیادہ واضح اور منظم ہو جائے گا، جبکہ تاخیر کی صورت میں متعلقہ اداروں کے ساتھ جلد رابطہ کر کے مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے گا۔ اس سے ملازمت کے تعلقات اور کاروباری سرگرمیوں پر ممکنہ منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
وزارت نے بتایا کہ تاخیر سے تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملات میں مرحلہ وار اور متوازن طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں الیکٹرانک نگرانی کے ذریعے کمپنیوں کو نوٹس اور یاد دہانیاں بھیجی جاتی ہیں تاکہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی صورتحال درست کر سکیں، جس کے بعد ضرورت پڑنے پر انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق اگر کوئی ادارہ مقررہ وقت کے اندر مجموعی واجب الادا تنخواہوں کا کم از کم 85 فیصد منتقل کر دیتا ہے تو اسے ضابطوں کے مطابق تعمیل کرنے والا ادارہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی یا ادھوری ادائیگی کی اجازت ہے، کیونکہ کارکنان اپنی مکمل واجب الادا رقم کے قانونی حق دار رہیں گے۔
وزارت نے مزید کہا کہ نگرانی کا نظام خطرات اور کاروباری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جہاں بڑی تعداد میں کارکن کام کرتے ہیں اور تنخواہوں میں تاخیر سے مزدوروں اور کاروباری تسلسل پر زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔
وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن کے مطابق ویج پروٹیکشن سسٹم ہر ماہ 37 ارب درہم سے زائد مالیت کی تنخواہوں کی ادائیگیوں پر عملدرآمد کرتا ہے اور یہ نظام متحدہ عرب امارات میں لیبر مارکیٹ کے استحکام اور کاروباری اعتماد کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔
یہ نئی وضاحت ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں کو بروقت مسائل حل کرنے کا موقع بھی فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ معیشت اور روزگار کا نظام مستحکم رہے۔







