
خلیج اردو
انڈین پریمیئر لیگ انڈین پریمیئر لیگ ہمیشہ ایسی کہانیاں سامنے لاتی ہے جو صرف کھیل نہیں بلکہ انسانی جدوجہد کی مثال بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک نئی کہانی نوجوان فاسٹ بولر ساکب حسین کی ہے جنہوں نے غربت سے نکل کر کرکٹ کے بڑے میدان میں اپنی پہچان بنائی۔
21 سالہ ساکب حسین کا تعلق بھارتی ریاست بہار کے ضلع گوالیار سے ہے، جہاں ان کے والد محنت مزدوری کر کے روزانہ بمشکل چند سو روپے کماتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ساکب کے پاس کھیلنے کے لیے جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔
ان کی والدہ کے مطابق ساکب اکثر روتے ہوئے کہتے تھے کہ انہیں اسپورٹس شوز چاہئیں تاکہ وہ کرکٹ کھیل سکیں۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے والدہ نے اپنی زیورات تک فروخت کر دیے، جو ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔
بعد ازاں ساکب نے مقامی ٹینس بال کرکٹ سے آغاز کیا اور آہستہ آہستہ ریاستی سطح تک رسائی حاصل کی۔ ان کی تیز رفتار بولنگ کی وجہ سے انہیں اپنے علاقے میں “گوالیار کا کاگیسو ربادا” کہا جانے لگا، جو جنوبی افریقہ کے معروف بولر کاگیسو ربادا سے تشبیہ ہے۔
آئی پی ایل کے حالیہ سیزن میں انہوں نے اپنی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار ڈیبیو کیا اور چار وکٹوں کی کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل میچوں میں بھی مؤثر بولنگ کرتے رہے اور ٹیم کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
سابق بھارتی فاسٹ بولر عرفان پٹھان نے ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ساکب کی کہانی جذباتی بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی، کیونکہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود خود پر یقین رکھا۔
ساکب حسین نے آئی پی ایل نیلامی میں 32 ہزار ڈالر میں منتخب ہونے کے بعد کہا کہ "اگر آپ کے اندر خوداعتمادی ہو تو کچھ بھی ممکن ہے، میری جنگ میرے اپنے ساتھ ہے۔”
یہ کہانی اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ غربت، مشکلات اور وسائل کی کمی کے باوجود خواب پورے کیے جا سکتے ہیں اگر عزم اور محنت ساتھ ہو۔






