متحدہ عرب امارات

دبئی کے رمراَم رہائشی منصوبے میں مکینوں کو عارضی انخلا کے نوٹس، کرایہ معاوضہ اور منتقلی الاؤنس کی پیشکش

خلیج اردو
دبئی کے معروف رہائشی منصوبے رمراَم میں متعدد مکینوں کو اپنے گھروں سے عارضی طور پر منتقل ہونے کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ انتظامیہ نے متاثرہ رہائشیوں کو کرایے کے معاوضے اور منتقلی الاؤنس کی پیشکش بھی کی ہے۔ تعمیراتی اور مرمتی کاموں کی مدت 16 سے 20 ماہ تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

کمیونٹی کے آپریٹر Dubai Holding Community Management نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معمول کے معائنوں کے بعد یہ فیصلہ احتیاطی اور طویل المدتی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ کمیونٹی کے معیار اور رہائشی سہولیات کو محفوظ بنایا جا سکے۔

رہائشیوں کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق گھروں کو خالی کرانے کا عمل یکم جولائی سے مرحلہ وار شروع ہوگا۔ بعض مکینوں کو کم از کم 16 ماہ جبکہ بعض کو 20 ماہ تک اپنے اپارٹمنٹس خالی رکھنے ہوں گے۔

انتظامیہ کے مطابق معاوضے کا تعین خالی رکھنے کی مدت کو متعلقہ یونٹ کے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری ایجنسی انڈیکس کی اوسط کرایہ قیمت سے ضرب دے کر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسٹوڈیو اپارٹمنٹ کے لیے 7 ہزار درہم جبکہ تین بیڈروم اپارٹمنٹ کے لیے 16 ہزار درہم تک منتقلی الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

بعض رہائشیوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ مرمتی کاموں کے دوران بھی سروس چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ ایک بیڈروم اپارٹمنٹ کے مالکان کے مطابق انہیں ہر ماہ تقریباً 1200 درہم سروس چارجز کے علاوہ ہاؤسنگ قرض کی ادائیگی بھی جاری رکھنی پڑے گی، جبکہ متبادل رہائش کا کرایہ بھی اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔

ایک رہائشی نے بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے کی یونیورسٹی میں داخلے کی صورتحال ابھی واضح نہیں، اس لیے نئی رہائش کے انتخاب میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق معاوضے کا پیکج مناسب ہے، تاہم منتقلی کے عملی مراحل کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔

ایک اور رہائشی نے کہا کہ ان کی عمارت اس منصوبے سے متاثر نہیں ہو رہی، لیکن وسیع پیمانے پر تعمیراتی کاموں کے باعث گرد و غبار اور شور شرابے کے اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو الرجی یا دمے کا شکار ہیں۔

آٹھ برس سے زائد عرصے سے کمیونٹی میں رہنے والی ایک خاتون مالک مکان نے کہا کہ گھر خالی کرنا یقیناً ایک بڑی پریشانی ہے، لیکن اگر یہ اقدامات عمارتوں کی ساختی حفاظت اور مستقبل میں بہتر رہائشی ماحول کے لیے ضروری ہیں تو یہ عارضی تکلیف قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے تاکہ مرمتی منصوبہ منظم، محفوظ اور قوانین کے مطابق مکمل کیا جا سکے، جبکہ متاثرہ رہائشیوں کو مسلسل معلومات اور معاونت فراہم کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button