
خلیج اردو
امریکہ: چیٹ جی پی ٹی کے استعمال نے مجرموں کی شناخت اور جرم کے اعتراف میں نئی جہتیں پیدا کر دی ہیں، مگر ساتھ ہی پرائیویسی کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں۔ میسوری میں ایک کالج کے طالب علم نے گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے جرم کا خود اعتراف چیٹ جی پی ٹی پر کیا، جس سے پولیس کو شواہد حاصل ہوئے۔
اسی طرح، کیلیفورنیا میں ایک شخص نے آگ لگانے سے پہلے اے آئی سے جلتے ہوئے شہر کی تصاویر تیار کروائیں، جنہیں بعد میں پولیس نے بطور ثبوت استعمال کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سہولت فراہم کر سکتی ہے، مگر یہ پرائیویسی کے اہم پہلوؤں کے لیے بھی چیلنج ہے۔





