
خلیج اردو
اسلام آباد: 21 اکتوبر 2025
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر بننے والے جتھے کسی طور قابل قبول نہیں ہیں اور ان کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسے گروہوں کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور اب ریاست قانون، قواعد اور آئین کے مطابق چلائے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں ایک ہارڈ اسٹیٹ بننا ہوگا اور اس حوالے سے دیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے ٹی ایل پی پر پابندی کے بارے میں فی الوقت کوئی حتمی بیان دینے سے گریز کیا۔
وزیر دفاع نے افغان سرحد سے متعلق پُرامن انتظامات اور مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سیز فائر میں وقت کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے اور جب تک خلاف ورزی نہ ہو معاہدہ برقرار رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے بجائے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کی ہے اور اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کچھ دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر سے احکامات ملتے رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ معاملات کا مستقل حل چاہتا ہے اور پاک افغان مذاکرات کے دوران ماحول میں کوئی تلخی محسوس نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مزید معاملات پر بات چیت 25 اکتوبر کو ہو گی۔ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو دونوں برادر ملکوں کو اس کا نوٹس لیا جائے گا۔ اُن کے بقول افغان دراندازی کے جواب میں پاک فوج کی بھرپور کارروائی کے بعد طالبان کی درخواست پر سیز فائر عمل میں آیا۔
وزیر دفاع نے بلوچستان کے حالات اور داخلی سکیورٹی کے حوالے سے بھی کہا کہ مذہب کے نام پر پروان چڑھنے والے، عوام دشمن اور ترقی مخالف ایجنڈے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور ملکی سالمیت پر کسی بھی حملے کا موثر جواب دیا جائے گا۔






