
خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ مائیں بریسٹ کینسر کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔ خواتین سے گزارش ہے کہ وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوئے بغیر بریسٹ کینسر سینٹرز میں جا کر اپنی مفت اسکریننگ کرائیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہے، لیکن بروقت تشخیص اس کے لیے نہایت ضروری ہے۔ بیماری کے آغاز سے قبل حفاظتی میڈیکل پراسیس اختیار کرنا چاہیے تاکہ مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ حفاظتی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ٹیکہ جات کے کورسز بھی لازمی کرائے جائیں، کیونکہ احتیاط اور بروقت اقدامات ہی انسانی جانیں بچانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔






