متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں 22 ارب درہم مالیت کے قابل تجدید توانائی منصوبے کا سنگ بنیاد

 

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے دنیا کے پہلے اور سب سے بڑے قابل تجدید توانائی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، جو شمسی توانائی اور جدید بیٹری اسٹوریج کو یکجا کرے گا۔ یہ تاریخی قدم شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان، نائب چیئرمین صدارتی امور برائے ترقی و شہداء کی موجودگی میں رکھا گیا۔

یہ منصوبہ ابو ظبی فیوچر انرجی کمپنی (مصدر) اور امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی (ای ڈبلیو ای سی) کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے، جو ایک گیگاواٹ صاف، مسلسل توانائی عالمی سطح پر مسابقتی نرخ پر فراہم کرے گا۔ منصوبے میں 5.2 گیگاواٹ کا سولر فوٹو وولٹائک پلانٹ اور 19 گیگاواٹ آور کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم شامل ہوگا، جو تکنیکی طور پر دنیا کا سب سے جدید منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

22 ارب درہم کی لاگت سے 2027 میں آپریشن کا آغاز
22 ارب درہم مالیت کا یہ منصوبہ 2027 میں آپریشنل ہوگا اور اس کے نتیجے میں 10 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ سالانہ 5.7 ملین ٹن کاربن اخراج میں کمی متوقع ہے۔ منصوبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، خودکار توانائی تقسیم، جدید گرڈ ٹیکنالوجی اور خودکار شروعاتی صلاحیتوں جیسے جدید ترین حل شامل کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر سلطان الجابر کا خطاب
صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے وزیر اور مصدر کے چیئرمین ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت اور ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی حمایت سے یہ منصوبہ قابل تجدید توانائی کے عالمی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پائیدار اور محفوظ توانائی کی دوڑ میں یو اے ای جدید ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ترقی کا نیا ماڈل پیش کر رہا ہے۔ مصدر کے بیس سالہ تجربے اور ابو ظبی کی توانائی پارٹنرشپس نے اس منصوبے کو ممکن بنایا۔

ڈاکٹر عبداللہ حمید الجروان، چیئرمین محکمہ توانائی ابوظبی، نے کہا کہ یہ منصوبہ قومی توانائی کے نظام کی مضبوطی اور اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز جیسے شعبوں میں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button