متحدہ عرب امارات

دبئی: ’اگر کھانا دیر سے پہنچے تو برداشت کریں‘، رائیڈرز نے فاسٹ لین پر پابندی کا خیر مقدم کر دیا

خلیج اردو
دبئی میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت یکم نومبر سے موٹر سائیکلوں کے فاسٹ لین استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق پانچ یا اس سے زیادہ لین والی سڑکوں پر ڈیلیوری بائیکس بائیں جانب کی دو لین استعمال نہیں کر سکیں گی، جبکہ تین یا چار لین والی سڑکوں پر بائیں جانب کی سب سے آخری لین پر جانا منع ہوگا۔ دو لین یا اس سے کم والی سڑکوں پر رائیڈرز کو کسی بھی طرف جانے کی اجازت ہوگی۔

دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) اور دبئی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ جو کمپنیاں اپنے رائیڈرز کو ان نئے اصولوں پر عملدرآمد کرائیں گی، انہیں ’ڈیلیوری سیکٹر ایکسیلنس ایوارڈ‘ کے تحت سراہا جائے گا۔

سرفراز، جو ایک فوڈ ڈیلیوری کمپنی کے لیے کام کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ یہ قانون رائیڈرز کی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اس نے بتایا کہ پچھلے سال الخیل روڈ پر فاسٹ لین میں ایک حادثے کے دوران وہ بال بال بچا۔ "میں ایک آرڈر پہنچانے کے لیے جلدی میں تھا، گاہک بار بار کال کر رہا تھا۔ بائیک پھسل گئی اور پیچھے سے آنے والی گاڑی سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔ اس کے بعد سے میں نے فاسٹ لین چھوڑ دی۔”

انہوں نے کہا، "یہ قانون ہماری حفاظت کے لیے ہے۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ اگر کھانا چند منٹ دیر سے پہنچے تو صبر کریں۔ ہم جان بوجھ کر تاخیر نہیں کرتے، بس زندہ رہنا چاہتے ہیں۔”

ایک اور رائیڈر حمزہ کا کہنا تھا کہ بعض اوقات وہ مجبوری میں فاسٹ لین میں جاتے ہیں کیونکہ بعض سڑکوں پر ایگزٹ کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ "جب ٹریفک زیادہ ہو تو دائیں طرف نکلنے کے لیے کبھی کبھار بائیں لین میں جانا پڑتا ہے، لیکن اب ہم میں سے اکثر ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ خطرناک ہے۔”

حمزہ نے کہا کہ ڈیلیوری پلیٹ فارمز کو بھی رائیڈرز کے حالات کا خیال رکھنا چاہیے۔ "بعض اوقات ہمیں تاخیر پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ کمپنیوں کو ٹریفک کے مطابق ڈیلیوری ٹائم مقرر کرنا چاہیے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات جی پی ایس بھی زیادہ فاصلے والا راستہ دکھاتا ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔”

موٹرسٹس نے بھی فاسٹ لین پر بائیکس کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ امان ہاشم نے بتایا کہ "یہ رائیڈرز اچانک سامنے آ جاتے ہیں، نظر نہیں آتے کیونکہ ان کی بائیکس چھوٹی اور تیز ہوتی ہیں۔ ایک بار ایک رائیڈر نے دو لین کاٹ کر ایگزٹ لیا، میں نے بریک لگائی تو گاڑی میں رکھا سامان گر گیا۔”

محمد عرفان، جو روزانہ النہدہ سے جبل علی تک سفر کرتے ہیں، نے کہا کہ نئے ضابطے سے حادثات کم ہوں گے۔ "بائیکس بڑی گاڑیوں کے بلائنڈ اسپاٹ میں آ جاتی ہیں۔ یہ قانون ان کی اور دوسروں کی جانیں بچائے گا۔”

اماراتی روڈ سیفٹی ماہر مصطفیٰ الداہ نے اس اقدام کو سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اس شعبے میں سختی ایک مثبت قدم ہے۔ قانون پر عملدرآمد اور نگرانی ڈرائیوروں کے رویے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ہم مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ کیمروں کے ذریعے مؤثر نگرانی کریں تو طویل مدت میں بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔”

انہوں نے بتایا کہ دبئی میں اس وقت 65 ہزار ڈیلیوری رائیڈرز کام کر رہے ہیں، جبکہ صرف نو ماہ میں 78 ہزار سے زائد جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سڑکوں پر نظم و ضبط کی فوری ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button