
خلیج اردو
پنجاب اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس کا مجموعی حجم 5903 ارب 46 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ پنشن میں ساڑھے 3 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری اخراجات میں 3 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ مجموعی جاری اخراجات 1962 ارب 93 کروڑ روپے رہیں گے۔ بلدیاتی اداروں کیلئے 803 ارب 88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال 1150 ارب روپے تھا۔ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت پنجاب کا حصہ 4390 ارب روپے بتایا گیا ہے، جبکہ صوبائی آمدن 1209 ارب 86 کروڑ روپے ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
محصولات کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی 528 ارب 50 کروڑ روپے، بورڈ آف ریونیو 86 ارب روپے اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 124 ارب روپے اکٹھا کرے گا۔
بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں 99 فیصد چھوٹ کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح کچے کے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5 ارب 78 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
غیر ملکی قرضوں کا تخمینہ 49 ارب 84 کروڑ روپے جبکہ غیر ملکی پراجیکٹ قرضے 140 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سرپلس بجٹ کیلئے 910 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سماجی شعبے کیلئے بھی نمایاں فنڈز رکھے گئے ہیں، جن میں سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب، ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب، صحت کیلئے 76 ارب اور رمضان پیکیج کیلئے 35 ارب روپے شامل ہیں۔ کسان کارڈ کیلئے 10 ارب جبکہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کیلئے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تعلیم کے شعبے کیلئے 750 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کل بجٹ کا 15 فیصد بنتا ہے۔ کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے قیام کیلئے 6 ارب 90 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کیلئے 132 ارب 54 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزراء، مشیروں اور معاونین کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور 74 گاڑیوں کی نیلامی کا فیصلہ کیا ہے، جس سے 78 کروڑ روپے کے اخراجات کم ہوئے۔
عوامی ریلیف کیلئے 87 ارب 25 کروڑ روپے کی فیول سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جبکہ 2025 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کیلئے 79 ارب 78 کروڑ روپے کا ہنگامی امدادی پیکج رکھا گیا ہے، جس کے تحت 21 ہزار متاثرین کو 50 ہزار روپے فی کس امداد دی جائے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 320 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ حکومتی امور میں شفافیت اور سہولت کو فروغ دیا جا سکے۔






