
خلیج اردو
فجیرہ کی وادی وریہ نیشنل پارک کو یونیسکو کے عالمی ورثہ فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، جو متحدہ عرب امارات کے لیے ایک تاریخی ماحولیاتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
گزشتہ 20 سال سے فجیرہ کی ٹیمیں اس مقصد کے لیے کام کر رہی تھیں۔ یہ سفر فجیرہ کے حکمران کے ایک فرمان سے شروع ہوا اور طویل تحقیق، تحفظِ ماحول اور سائنسی کوششوں کے بعد وادی وریہ کو عالمی سطح پر منفرد مقام حاصل ہوا۔
فجیرہ انوائرمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل اصیلہ عبداللہ المعلا کے مطابق یہ کامیابی صرف سفارتی اعزاز نہیں بلکہ قدرتی ورثے کے تحفظ، سائنس اور ماحول دوست سوچ کے لیے طویل عرصے کی محنت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی وریہ کا یونیسکو عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہونا تقریباً دو دہائیوں پر محیط ماحولیاتی تحفظ، سائنسی تحقیق اور ذمہ دارانہ انتظام کا نتیجہ ہے۔
ان کے مطابق یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی مشترکہ کوشش ہے جنہوں نے ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کیا۔
یونیسکو کا سخت معیار اور طویل عمل
وادی وریہ کو عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کا عمل آسان نہیں تھا۔ اس کے لیے وسیع سائنسی شواہد، تفصیلی انتظامی منصوبہ بندی، عالمی ماہرین کی جانچ اور یونیسکو و آئی یو سی این کے ساتھ مسلسل رابطہ درکار تھا۔
اصیلہ المعلا کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ثابت کرنا تھا کہ وادی وریہ عالمی ورثہ کنونشن کے معیار کے مطابق غیر معمولی عالمی اہمیت رکھتی ہے۔
اس مقصد کے لیے کئی سالوں کی تحقیق، دستاویزات کی تیاری اور متحدہ عرب امارات سمیت عالمی ماہرین کی مشترکہ کوششیں شامل رہیں۔
وادی وریہ کو منفرد کیا بناتا ہے؟
فجیرہ انوائرمنٹ اتھارٹی کے مطابق وادی وریہ جزیرہ نما عرب کے اہم ترین پہاڑی میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک ہے۔
یہ محدود علاقے میں غیر معمولی حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھتی ہے، جہاں نایاب اور مقامی انواع پائی جاتی ہیں۔ یہ خشک ماحول میں پانی کے اہم ذخائر اور قدرتی نظام کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اصیلہ المعلا کے مطابق وادی وریہ کی سب سے خاص بات اس کا تحفظ کا منفرد طریقہ کار ہے، جس میں سائنسی تحقیق، طویل مدتی ماحولیاتی نگرانی، مضبوط قانونی تحفظ اور مقامی و عالمی اداروں کے تعاون کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی وریہ اس بات کی مثال ہے کہ سائنس، بہتر انتظام اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے قدرتی وسائل کا مؤثر تحفظ ممکن ہے۔
نئے مرحلے کا آغاز
یونیسکو میں شمولیت کو اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
اصیلہ المعلا کے مطابق آئندہ ترجیح وادی وریہ کی عالمی اہمیت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے سائنسی تحقیق، ماحولیاتی نگرانی، قدرتی رہائش گاہوں کی بحالی، پائیدار سیاحت اور ماحولیاتی تعلیم کے منصوبوں کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عالمی سائنسی تعاون، اعلیٰ معیار کی تحقیق اور متحدہ عرب امارات کے قدرتی ورثے سے عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ان کے مطابق وادی وریہ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ یہ قدرت کی جانب سے ملنے والا تحفہ ہے جسے قیادت کے وژن، سائنسی بنیادوں پر انتظام اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے انسانیت اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔







