متحدہ عرب امارات

اکتوبر میں پٹرول مہنگا ہونے سے پہلے دبئی کے شہریوں کا پیٹرول پمپس کا رخ، طویل قطاریں لگ گئیں

خلیج اردو
دبئی میں اکتوبر کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے نئی قیمتوں کے نفاذ سے پہلے گاڑیوں میں ایندھن بھرانے کے لیے پٹرول پمپس کا رخ کرلیا۔ بدھ کی صبح متعدد اسٹیشنز پر شہریوں کو 20 سے 25 منٹ تک انتظار کرنا پڑا، جبکہ بعض افراد نے کام کے دوران وقفہ لے کر یا معمول کے راستے میں اضافی اسٹاپ کرکے گاڑیوں میں پٹرول بھروایا۔

دبئی کے الغرہود، بزنس بے، الخیل روڈ اور القوز کے چار پٹرول اسٹیشنز کا جائزہ لیا گیا، جہاں صبح 11 بجے تک گاڑیوں کی قطاریں موجود تھیں۔ اسٹیشن عملے کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد صبح ساڑھے 10 بجے سے گاڑیوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔

متعدد شہریوں نے بتایا کہ انہوں نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی خبر پڑھنے کے بعد اپنے معمول کے شیڈول سے پہلے ہی گاڑیوں میں ایندھن بھرانے کا فیصلہ کیا۔ بعض ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح تقریباً 80 درہم تک کی بچت کرسکتے ہیں۔

بزنس بے میں کام کرنے والے امر الفور نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کی خبر ملتے ہی وہ دفتر سے وقفہ لے کر گاڑی میں پٹرول بھرانے پہنچے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ شام کے اوقات میں پٹرول اسٹیشنز پر مزید رش ہوگا۔

ایک اور ڈرائیور سلمان نے بتایا کہ صبح پٹرول اسٹیشن پر غیر معمولی رش دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ مہینے کا آخری دن ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے، جس کے بعد انہوں نے قریب ترین اسٹیشن کا رخ کیا۔

دبئی کی رہائشی اینی ورگھیز نے بھی کام پر جاتے ہوئے گاڑی میں پٹرول بھروایا، حالانکہ انہوں نے چند روز قبل ہی اپنی ایس یو وی کا ٹینک بھروایا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اسپیشل 95 پٹرول کے 18 لیٹر کے لیے 67 درہم ادا کیے، جبکہ نئی قیمت لاگو ہونے کے بعد اتنی ہی مقدار پر تقریباً 77 درہم خرچ ہوں گے۔

ایک سیاحتی کمپنی کے ڈرائیور نے بتایا کہ کمپنی کے تقریباً 60 گاڑیوں کے بیڑے میں نئی قیمتوں سے پہلے ایندھن بھرانے سے مجموعی طور پر 3 ہزار درہم سے زیادہ کی بچت متوقع ہے۔ ان کے مطابق ایک گاڑی پر تقریباً 55 سے 60 درہم کی بچت ہوسکتی ہے۔

القوز کے ایک پٹرول اسٹیشن کے ملازم نے بتایا کہ عام طور پر اس وقت اتنا رش نہیں ہوتا، تاہم پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صبح ساڑھے 10 بجے سے گاڑیوں کی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں اور شام 4 بجے کے بعد مزید رش متوقع ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button