متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں 2027 کے آخر تک اڑنے والی گاڑیوں کی فراہمی کا امکان، کمپنی کی چین میں سرٹیفکیشن آخری مراحل میں داخل

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں اڑنے والی گاڑیوں کی آزمائشی پروازیں 2027 کے آغاز میں شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ کمپنی ایریج نے صارفین کو گاڑیاں فراہم کرنے کا ہدف 2027 کے آخر تک مقرر کیا ہے۔ کمپنی چین میں سرٹیفکیشن کا عمل مکمل کرنے کے قریب ہے اور متحدہ عرب امارات میں آزمائشی آپریشنز شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ایریج کے چیف فنانشل آفیسر مائیکل ڈو نے چین کے شہر شینزن میں دبئی بزنس فورم کے موقع پر خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اڑنے والی گاڑی نے چین میں متعلقہ حکام کی نگرانی میں آزمائشی پروازیں مکمل کر لی ہیں، تاہم حتمی ٹائپ سرٹیفکیٹ کا انتظار ہے۔

گزشتہ ماہ کمپنی نے راس الخیمہ کے ساتھ ایک ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کرنے کے لیے معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت عام صارفین کے لیے متعارف کرانے سے پہلے اڑنے والی گاڑی کو سخت آزمائشی مراحل سے گزارا جائے گا۔ اس پروگرام کا مقصد نئی ٹیکنالوجی کے لیے محفوظ آپریشنل طریقہ کار اور ضابطے تیار کرنا ہے۔

مائیکل ڈو کے مطابق متحدہ عرب امارات میں آزمائشی آپریشنز 2027 کے آغاز میں شروع ہو سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار راس الخیمہ میں ریگولیٹری سینڈ باکس کی تفصیلات طے ہونے اور طیارے کو ملک میں لانے کے انتظامات پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف گاڑی کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے مناسب آپریشنل ماحول قائم کرنا بھی ضروری ہے، جس کے لیے حکام کو وقت درکار ہوگا۔

ان کے مطابق آئندہ چھ سے بارہ ماہ کے دوران یہ پروگرام مرحلہ وار آگے بڑھایا جا سکتا ہے، تاکہ مقامی حکام جدید فضائی نقل و حرکت کے لیے طریقہ کار تیار اور موجودہ قوانین کو نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر سکیں۔

کمپنی کے مطابق راس الخیمہ میں نسبتاً کم گنجان آباد علاقے آزمائشی سرگرمیوں کے لیے موزوں ہیں۔ مستقبل میں ایریج پورے متحدہ عرب امارات میں اپنی سرگرمیاں پھیلانے کی خواہش مند ہے، جس میں ابوظبی اور راس الخیمہ سمیت مختلف امارات کے درمیان مظاہراتی فضائی روٹس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

مائیکل ڈو نے کہا کہ اگر تمام معاملات منصوبے کے مطابق آگے بڑھے تو صارفین کو گاڑیوں کی فراہمی 2027 کے آخر میں شروع ہو سکتی ہے، تاہم ضابطہ جاتی منظوریوں اور آپریشنل انتظامات میں تاخیر کی صورت میں یہ مدت 2028 کے آغاز تک بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ریگولیٹری سینڈ باکس تجارتی سطح پر گاڑی متعارف کرانے کی جانب ایک اہم راستہ ہے۔

ایریج کا لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر دو حصوں پر مشتمل ہے، جن میں ایک زمینی گاڑی اور اس کے ساتھ منسلک طیارہ شامل ہے۔ اس نظام کے تحت صارف پہلے گاڑی چلا کر اپنی منزل تک پہنچ سکے گا، پھر اسے پارک کرنے کے بعد مختصر فضائی سفر کے لیے طیارے کا استعمال کر سکے گا۔ کمپنی اسے ذاتی اور تفریحی استعمال کے لیے تیار کردہ ماڈیولر اڑنے والی گاڑی قرار دیتی ہے۔

مائیکل ڈو کے مطابق اس نظام کے طیارے ایکس تھری ایف نے چین میں سرٹیفکیشن کے عمل کا ٹی آئی اے مرحلہ مکمل کر لیا ہے اور متعلقہ حکام کی آزمائشی پروازیں بھی پوری ہو چکی ہیں، تاہم حتمی ٹائپ سرٹیفکیٹ جاری ہونا باقی ہے۔

کمپنی کو گزشتہ سال تک ابتدائی مرحلے کے 300 سے زیادہ آرڈرز موصول ہو چکے تھے۔ ایریج کا اندازہ ہے کہ مستقبل میں سالانہ فراہمی کئی سو گاڑیوں تک پہنچ سکتی ہے اور سازگار حالات میں یہ تعداد ایک ہزار کے قریب بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم کمپنی نے ابھی تک متحدہ عرب امارات میں اس گاڑی کی فروخت کے لیے باقاعدہ مارکیٹنگ شروع نہیں کی۔

مائیکل ڈو کے مطابق لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر کمپنی کے بڑے برقی طیاروں کے مقابلے میں پہلے مارکیٹ میں آ سکتا ہے۔ کمپنی کا ایک اور طیارہ اے 868 چھ افراد، بشمول پائلٹ، کو لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے دعوے کے مطابق اس کی پرواز کی حد 500 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ رفتار 360 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ یہ طیارہ دبئی سے ابوظبی جیسے طویل روٹس کے لیے استعمال ہو سکتا ہے اور برقی ایئر ٹیکسیوں کے شعبے میں دیگر کمپنیوں کے منصوبوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر اس کے برعکس مختصر تفریحی پروازوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس کے تجرباتی آپریشنز سے حکام کو جدید فضائی نقل و حرکت کے ضابطوں اور عملی انتظامات کا تجربہ حاصل ہوگا، جس سے مستقبل میں زیادہ پیچیدہ فضائی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button