متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں جینوم پروگرام کے تقریباً 9 لاکھ 20 ہزار شرکا کو انفرادی صحت کے خطرات سے متعلق رپورٹس جاری کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں جینوم پروگرام کے تقریباً 9 لاکھ 20 ہزار شرکا کو انفرادی صحت کے خطرات سے متعلق رپورٹس جاری کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیماریوں کی بروقت شناخت، ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے اور علاج کے بجائے بیماریوں سے بچاؤ پر مبنی صحت کے نظام کو فروغ دینا ہے۔

وزیر صحت و تحفظ احمد بن علی السایغ نے منگل کو ابوظبی میں فیوچر ہیلتھ سمٹ کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ جینوم پروگرام میں شریک ان افراد کو رپورٹس فراہم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جنہوں نے نتائج وصول کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد میں بعض بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہونے کی نشاندہی ہوگی، انہیں انفرادی ایکشن پلان دیا جائے گا۔ وہ اس منصوبے کے ساتھ اپنے بنیادی معالج یا فیملی ڈاکٹر سے رجوع کر سکیں گے، جہاں مزید ٹیسٹ اور احتیاطی اقدامات تجویز کیے جا سکیں گے۔ تاہم وزیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے افراد میں قابلِ عمل طبی نتائج سامنے آنے کی توقع ہے، رپورٹس کب جاری ہوں گی اور ان میں کن بیماریوں کو شامل کیا جائے گا۔

احمد بن علی السایغ کے مطابق جینوم پروگرام صحت کے شعبے میں ڈیٹا کی بنیاد پر انفرادی ضروریات اور بیماریوں کے ممکنہ خطرات کی شناخت کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات میں بڑے پیمانے پر جینیاتی معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے عمل کو انفرادی طبی نگہداشت سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔

وزیر صحت نے بتایا کہ یہ پروگرام حکومت کی وسیع تر حکمت عملی ’ہیلتھی یو اے ای‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد صحت کے نظام کو زیادہ مربوط بنانا اور بیماری لاحق ہونے کے بعد علاج کرنے کے بجائے اس سے پہلے بچاؤ پر توجہ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شیخ محمد بن زاید نے ایسے نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے جو ملک کے مختلف صحت کے نظاموں کو باہم مربوط کرکے ان کی کارکردگی بہتر بنائے۔

اس حکمت عملی کے تحت قومی صحت عامہ کی حکمت عملی 2026 سے 2031 پر بھی کام جاری ہے، جس میں بیماریوں سے بچاؤ، صحت مند طرز زندگی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت اور مجموعی عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی گئی ہے۔ ابوظبی پہلے ہی جسمانی سرگرمیوں، متوازن غذا، سکولوں، دفاتر اور خوراک کے ماحول کو بہتر بنانے کے ذریعے صحت مند طرز زندگی کے فروغ پر کام کر رہا ہے۔ نئی قومی حکمت عملی کے تحت صحت کے نتائج بہتر بنانے میں طبی شعبے کے علاوہ دیگر شعبوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

احمد بن علی السایغ نے یہ بھی اعلان کیا کہ متحدہ عرب امارات آئندہ دو سال میں صحت کے ہنگامی حالات کے لیے ملک گیر متحدہ کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ہنگامی طبی خدمات کو ایک مربوط ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے ابوظبی کی مربوط ایمبولینس سروس اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام کو ایسی مثالیں قرار دیا جنہیں ملک بھر میں وسعت دی جا سکتی ہے۔

وزیر کے مطابق خطے میں حالیہ عدم استحکام نے متحدہ عرب امارات کے صحت کے نظام، اسپتالوں اور انتہائی نگہداشت کی سہولتوں کی استعداد کو آزمایا ہے۔ ان حالات سے ظاہر ہوا کہ ہنگامی طبی خدمات کو مربوط بنانے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری کی ضرورت ہے۔

سمٹ میں خطے کے دیگر ممالک میں ڈیجیٹل صحت کے شعبے میں تعاون پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اردن کے شعبہ صحت میں ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر ابراہیم لبیب نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ڈیجیٹل ہیلتھ سینٹر کے ذریعے دور دراز اور دیہی علاقوں کے اسپتالوں کو منسلک کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اب تک 12 اسپتال اس نظام سے منسلک ہو چکے ہیں، جہاں ٹیلی آئی سی یو، ٹیلی میڈیسن اور ٹیلی ڈائیلاسز کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریڈیولوجی رپورٹس تیار کرنے کا وقت کئی دن سے کم ہو کر تقریباً دو گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ ڈائیلاسز کے ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار سیشنز کی دور سے نگرانی بھی کی جا چکی ہے۔

یونان کے وزیر صحت اڈونیس جارجیاڈس نے بھی ڈیجیٹل صحت کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کے تجربے کو قابلِ استفادہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یونان نے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کیا ہے، جہاں مائی ہیلتھ ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل طبی ریکارڈ دستیاب ہیں اور لاکھوں افراد کی مختلف بیماریوں کے لیے اسکریننگ کی جا چکی ہے۔ یونان جینوم پروگرام کے حوالے سے بھی متحدہ عرب امارات کے تجربے کا جائزہ لے رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا ابھرتا ہوا صحت کا ماڈل جینیاتی معلومات، ڈیجیٹل صحت، مصنوعی ذہانت، بیماریوں سے بچاؤ، ہنگامی طبی تیاری اور مختلف سرکاری شعبوں کے درمیان تعاون کو یکجا کرنے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button