
خلیج اردو
دبئی پولیس نے قتل کے ایسے تین واقعات کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں ملزمان نے وارداتوں کو خودکشی اور حادثات کا رنگ دینے کی کوشش کی، تاہم فرانزک سائنس کی مدد سے جرائم کا سراغ لگا لیا گیا۔
دبئی پولیس کے جنرل ڈپارٹمنٹ آف فرانزک سائنس اینڈ کرمنالوجی کے فرانزک انجینئرنگ سیکشن کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر انجینئر محمد علی القاسم نے دبئی پولیس پوڈکاسٹ میں بتایا کہ ایک واقعے میں ایشیائی شہری کی لاش ولا میں شاور کے پردے کی راڈ سے لٹکی ہوئی ملی۔ ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی دکھائی دیتا تھا، تاہم ماہرین نے راڈ اور بیلٹ کی مضبوطی جانچنے کے لیے تجربات کیے۔ ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ راڈ تقریباً 90 کلوگرام وزن برداشت کرنے کے بعد ٹوٹ جاتی ہے، جبکہ بیلٹ کی قوت برداشت تقریباً 70 کلوگرام تھی۔ شواہد نے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا اور تحقیقات سے قتل کا انکشاف ہوا، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
دوسرے واقعے میں ایک خاتون اور اس کے عاشق نے خاتون کے شوہر کو قتل کرنے کے بعد لاش اور گاڑی کو صنعتی علاقے کے قریب آگ لگا دی تاکہ واقعے کو حادثہ ظاہر کیا جاسکے۔ فرانزک ماہرین کو گاڑی کے نیچے پیٹرولیم مصنوعات کے آثار ملے۔ ڈی این اے، کیمیائی تجزیے اور دیگر شواہد سے قتل کی تصدیق ہوئی اور ملزمان کو سزا دلوائی گئی۔
ایک تیسرے واقعے میں صحرا سے ملنے والی مسخ شدہ لاش کی شناخت کے لیے تھری ڈی اسکیننگ، جینیاتی تجزیے، ڈی این اے اور ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے کھوپڑی سے چہرے کی ممکنہ تصویر تیار کی گئی۔ اس ٹیکنالوجی سے مقتول کی شناخت اور بعد ازاں قاتل کی گرفتاری ممکن ہوئی۔
محمد علی القاسم کے مطابق دبئی پولیس کا فرانزک انجینئرنگ سیکشن عمارتوں، گاڑیوں، آتشزدگی، بجلی، مکینیکل نظام اور حادثات سمیت مختلف شعبوں میں 23 منظور شدہ طریقہ کار کے تحت تحقیقات کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جائے وقوعہ کی تھری ڈی تشکیل اور حادثات کی وجوہات کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔







