متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں طلبہ پر تشدد کرنے والے استاد کو دو سال قید اور ملک بدری کی سزا سنا دی گئی ہے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں طلبہ پر تشدد کرنے والے استاد کو دو سال قید اور ملک بدری کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ابوظبی کے ایک نجی سکول میں پیش آنے والے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں استاد کو کلاس روم کے اندر چار طلبہ کو مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ استاد نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے طلبہ کو کلاس میں بدنظمی سے روکنے کے لیے ایسا کیا، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔

متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق سکولوں میں طلبہ کو سزا دینے کے لیے جسمانی تشدد کی اجازت نہیں۔ وفاقی قانون نمبر 31 مجریہ 2021 کی شق 390 کے تحت کسی دوسرے شخص کو کسی بھی طریقے سے جسمانی نقصان پہنچانا جرم ہے، خواہ اس کی نیت کچھ بھی ہو یا نقصان کی شدت کم ہو۔ ابوظبی کے استاد کو اسی قانون کی شق 394 (2) کے تحت سزا سنائی گئی، جس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور مقررہ معیار کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان پہنچانے پر زیادہ سے زیادہ دو سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

قانون کے تحت سکول بھی طلبہ کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اور ملازمین کے تشدد کے نتیجے میں ہونے والے نقصان پر ان کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ابوظبی محکمہ تعلیم و علم (اے ڈی ای کے) سکولوں پر 10 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کرنے، سرگرمیاں معطل کرنے یا مستقل بندش کے احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

اے ڈی ای کے کی اسٹوڈنٹ بیہیویئر پالیسی کے تحت جسمانی سزا، زبانی بدسلوکی، طلبہ کو سب کے سامنے شرمندہ کرنا، واش روم جانے سے روکنا اور کھانا یا پانی نہ دینا ممنوع ہے۔ اس پالیسی کا اطلاق 2025-26 کے تعلیمی سال سے ابوظبی کے تمام نجی اور چارٹر سکولوں پر لازمی ہے۔ کسی طالب علم کو جسمانی طاقت صرف آخری چارے کے طور پر اس وقت استعمال کی جاسکتی ہے جب وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بن رہا ہو۔

ماہرین نفسیات کے مطابق جسمانی تشدد سے بچوں میں خوف، صدمہ، احساس کمتری، بے چینی، سکول جانے سے گریز اور تعلیمی کارکردگی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ تشدد دیکھنے والے دیگر طلبہ بھی نفسیاتی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔

والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر بچہ تشدد کی شکایت کرے تو تحمل سے اس کی بات سنیں اور اسے قصوروار نہ ٹھہرائیں۔ والدین پولیس اسٹیشن یا پبلک پراسیکیوشن میں شکایت درج کرانے کے ساتھ اے ڈی ای کے میں بھی کارروائی کی درخواست دے سکتے ہیں اور ہرجانے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں۔ واقعے کے بعد جلد از جلد سرکاری ہسپتال سے میڈیکل رپورٹ حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button