
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں شہریوں کے پاس فور بائی فور گاڑیاں موجود ہیں، جو صحرائی راستوں اور ریت کے ٹیلوں پر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ان میں سے کئی افراد نے اب تک اپنی گاڑیاں شہر کی سڑکوں اور شاہراہوں سے آگے نہیں چلائیں۔ ریت میں گاڑی پھنسنے، نقصان پہنچنے اور صحرائی راستوں پر ڈرائیونگ کا تجربہ نہ ہونے کے خدشات انہیں اس شوق سے دور رکھتے ہیں۔
سرد موسم کی آمد کے ساتھ اب کئی ایس یو وی مالکان پہلی مرتبہ صحرائی ڈرائیونگ کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کی خواہش ہے کہ اس سفر میں تجربہ کار ڈرائیور بھی ساتھ ہوں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے بنیادی مہارتیں سیکھ سکیں۔
دبئی میں مقیم عبدالباسط نے گزشتہ سال ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدی تھی۔ ان کے مطابق گاڑی خریدنے کی ایک بڑی وجہ خاندان کے ساتھ مختلف راستوں، خصوصاً صحرائی علاقوں میں سفر کرنا تھا، تاہم اب تک وہ اسے صرف شہر، شاہراہوں اور خاندانی دوروں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
عبدالباسط کا کہنا ہے کہ وہ اکثر ویڈیوز میں اپنی جیسی گاڑیوں کو ریت کے ٹیلوں پر چلتے دیکھتے ہیں اور خود بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں، لیکن تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں گاڑی ریت میں پھنسنے کا خدشہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کسی تجربہ کار ڈرائیور کی رہنمائی میں صحرائی سفر کریں۔
اسی طرح لگژری واچ بوتیک میں سیلز ایگزیکٹو عمرو محمود نے رواں سال جی ڈبلیو ایم ٹینک فور بائی فور گاڑی خریدی، لیکن ابھی تک اسے صحرائی علاقے میں نہیں لے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر موسم سرما میں وہ لوگوں کو اپنی گاڑیوں کے ساتھ صحرا جاتے دیکھتے ہیں اور خود بھی اس سرگرمی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
عمرو محمود کے مطابق انہیں سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ اگر گاڑی نرم ریت میں پھنس گئی تو اسے باہر نکالنے کا طریقہ معلوم نہیں ہوگا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ابتدائی تجربے کے لیے کون سے ریت کے ٹیلے محفوظ ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ رواں موسم سرما میں صحرائی ڈرائیونگ سیکھیں اور بعد میں اسے ہفتہ وار سرگرمی بنائیں۔
دبئی آف روڈرز کے بانی احمد پرویز کے مطابق صرف طاقتور فور بائی فور گاڑی کا مالک ہونا صحرائی ڈرائیونگ کے لیے کافی نہیں۔ صحرائی علاقوں میں جانے سے پہلے آف روڈ ڈرائیونگ، ٹائروں میں ہوا کے دباؤ، گاڑی کو ریت سے نکالنے کے طریقوں اور حفاظتی اقدامات کی بنیادی معلومات حاصل کرنا ضروری ہیں۔
احمد پرویز نے بتایا کہ نئے ڈرائیور عام طور پر تین غلطیاں کرتے ہیں، جن میں ٹائروں میں ہوا کا غلط دباؤ رکھنا، اچانک رفتار بڑھانا یا اسٹیئرنگ موڑنا اور کسی تجربہ کار شخص کی مدد کے بغیر صحرا میں داخل ہونا شامل ہیں۔ ان کے مطابق ماہرین کی رہنمائی میں ٹائروں کا دباؤ مناسب حد تک کم کرنا اور گاڑی کو ہموار انداز میں چلانا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر فور بائی فور گاڑی ریت کے ٹیلوں پر چلانے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ گاڑی کا فور وہیل ڈرائیو سسٹم، زمین سے اونچائی، ٹائر، کولنگ سسٹم اور کمپنی کی ہدایات دیکھنا ضروری ہے۔ مشکل صحرائی راستوں کے لیے لو رینج گیئرنگ والا ٹرانسفر کیس بھی اہم ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی پر فور بائی فور کا نشان ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر صحرائی راستے پر چل سکتی ہے۔
دبئی میں کے ٹی ڈیزرٹ ڈرائیو کا آٹھواں ایڈیشن 14 نومبر کو باب الشمس ایرینا میں منعقد ہوگا۔ اس تقریب میں شرکا اپنی موزوں فور بائی فور گاڑیوں کے ساتھ مخصوص صحرائی راستے پر سفر کرسکیں گے، جہاں مختلف چیک پوائنٹس اور معاون ٹیمیں بھی موجود ہوں گی۔
دبئی آف روڈرز اس ایونٹ کا باضابطہ آف روڈنگ پارٹنر ہے، جس میں تجربہ کار ڈرائیوروں، نئے شرکا اور خاندانوں کو ایک ساتھ صحرائی سفر کا موقع ملے گا۔ احمد پرویز نے نئے ڈرائیوروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پہلے تربیتی کورس کریں، کبھی اکیلے صحرا کا رخ نہ کریں، گاڑی نکالنے کے ضروری آلات ساتھ رکھیں اور ہمیشہ تجربہ کار ڈرائیوروں کے ساتھ سفر کریں۔ ان کے مطابق صحرائی ڈرائیونگ میں حفاظت کا انحصار مہارت پر ہے، صرف طاقتور گاڑی کی ملکیت پر نہیں۔







