
خلیج اردو
شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی نئی تاریخی کتاب شائع کرنے کے لیے انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اخراجات پورے کرنے کے لیے شارجہ سیمنٹ فیکٹری میں اپنے تمام شیئرز فروخت کرنا پڑے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے ان کے پاس رقم نہیں تھی، تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کام کو ممکن بنایا۔
شیخ سلطان نے بتایا کہ وہ شارجہ سیمنٹ فیکٹری کے بانیوں میں شامل تھے اور ابتدائی دور سے ہی اس کے شیئرز کے مالک تھے۔ شیئرز کی قیمت بڑھنے پر انہوں نے انہیں ایک انویسٹمنٹ بینک میں جمع کرایا اور مناسب مارکیٹ قیمت ملنے پر فروخت کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب کی اشاعت کے لیے تمام شیئرز فروخت کردیے اور حاصل ہونے والی پوری رقم اسی منصوبے پر خرچ ہوئی۔
ان کی نئی تاریخی تصنیف 61 جلدوں پر مشتمل ہے، جس کا عنوان ’’بحر ہند میں پرتگالی: 1497 سے 1750 عیسوی تک تاریخی واقعات‘‘ ہے۔ کتاب عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے اور اس میں بحر ہند کے تجارتی راستوں پر پرتگالی تسلط، بھارت میں ان کی جنگوں اور بتدریج زوال کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔
شیخ سلطان کے مطابق کتاب کی تیاری کے لیے تاریخی دستاویزات اور مخطوطات کی چھپائی کا عمل 1997 سے ستمبر 2006 تک جاری رہا۔ انہوں نے محققین کو مشورہ دیا کہ اصل تاریخی دستاویزات سے وفاداری اختیار کریں اور ذاتی آرا کو حاشیوں تک محدود رکھیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگلا منصوبہ پرتگالیوں سے پہلے خطے میں ڈچ اور انگریزوں کی آمد اور موجودگی کی تاریخ پر ہوگا، جو 2027 کے شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں پیش کیا جائے گا اور 60 جلدوں پر مشتمل ہوگا۔







