پاکستانی خبریں

نہ جانے میرا پِتہ کہاں ہوگا، اسلام آباد میں انسانی پلاسنٹا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت کیس میں جج کے ریمارکس،عدالت نے 4 ملزمان کی ضمانت مسترد

اسلام آباد میں انسانی پلاسنٹا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت کیس، 4 ملزمان کی ضمانت مسترد

خلیج اردو
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے انسانی پلاسنٹا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت کے مقدمے میں گرفتار چار ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پلاسنٹا انسانی اعضاء میں شامل نہیں ہوتا بلکہ بعض طبی شعبوں میں اس کا مثبت استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ سر پر بال لگانے سمیت بعض طبی طریقہ کار میں پلاسنٹا سے حاصل کیے گئے ٹشوز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دوران سماعت جج محمد افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ اگر کسی شخص نے بال لگوائے ہوں تو کیا اس میں بھی پلاسنٹا استعمال ہوا ہوگا؟ اس پر وکیل صفائی نے جواب دیا کہ بالوں کی پیوندکاری کے مختلف طبی طریقے ہیں اور بعض طریقہ کار میں پلاسنٹا ٹشوز کے استعمال کا امکان موجود ہوتا ہے۔

سماعت کے دوران جج اور وکیل صفائی کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی اعضاء میں آنکھیں، گردے اور دیگر اعضا شامل ہوتے ہیں، جبکہ جسم سے نکالے جانے والے بعض حصے لازماً انسانی اعضاء کے زمرے میں نہیں آتے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پِتہ نکالا جائے تو اسے عموماً تلف کر دیا جاتا ہے۔ اس پر جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ "میرا بھی پِتہ نکالا گیا تھا، اب معلوم نہیں وہ کہاں ہوگا۔”

دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جائیں، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے چاروں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button