
خلیج اردو
دبئی ساؤتھ میں رات گئے لگنے والی آگ سے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف گمراہ کن دعوے تیزی سے پھیل گئے۔ بعض پوسٹس اور رپورٹس میں متعدد دھماکوں، میزائل یا ڈرون حملے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے تاہم حکام کی وضاحت کے بعد ان دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی۔
دبئی سول ڈیفنس کے مطابق آگ دبئی ساؤتھ کے علاقے میں ایک ورکشاپ میں پیش آنے والے حادثے کے باعث لگی جس کے نتیجے میں کئی ٹرک اور کارواں آگ کی لپیٹ میں آگئے۔
واقعے سے قبل سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں جن میں شدید آگ اور دھوئیں کے مناظر دکھائے گئے۔ ان ویڈیوز کے ساتھ بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ آگ کسی بندرگاہ، گیس اسٹوریج مرکز یا دیگر حساس تنصیب میں لگی ہے۔
کچھ رپورٹس میں مختصر وقفے کے دوران متعدد دھماکوں کا دعویٰ کیا گیا جبکہ بعض نے واقعے کو میزائل یا ڈرون حملے سے بھی جوڑ دیا۔ تاہم حکام کی جانب سے واقعے کا علاقائی تنازع سے کوئی تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔
گمراہ کن معلومات صرف نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض معروف میڈیا اداروں نے بھی حکام کی تصدیق سے قبل مختلف دعوے رپورٹ کیے۔
اطلاعات کے پھیلاؤ میں پرانی یا غیر متعلقہ ویڈیوز نے بھی کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیوز کے ساتھ اپنی جانب سے دھماکوں، حملے اور جائے وقوعہ سے متعلق مختلف تفصیلات شامل کیں اور بعد میں یہی دعوے دوسرے اکاؤنٹس اور پلیٹ فارمز پر دہرائے جانے لگے۔
یوں اصل واقعے کی حقیقی ویڈیوز، پرانی فوٹیج اور غیر مصدقہ دعوے آپس میں مل گئے جس سے واقعے کی غلط تصویر سامنے آئی۔
دبئی میں اس سے قبل بھی ایسی غلط اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ 16 جولائی کو دبئی میڈیا آفس نے ڈاؤن ٹاؤن دبئی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے سے متعلق ایک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے عوام اور میڈیا کو صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بعد ازاں متعلقہ خبر رساں ادارے نے رپورٹ واپس لیتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا جبکہ 18 جولائی کو متحدہ عرب امارات کی پبلک پراسیکیوشن نے غلط خبر کی اشاعت اور پھیلاؤ سے متعلق تحقیقات میں پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔
حکام ماضی میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اور ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ ویڈیوز کے ذریعے دبئی میں مبینہ انخلا، ایئرپورٹس کی بندش، اشیائے ضروریہ کی قلت اور دیگر جعلی صورتحال سے متعلق دعووں کی بھی تردید کر چکے ہیں۔
اسی طرح 2021 میں جبل علی پورٹ پر لگنے والی آگ کی پرانی ویڈیوز بھی مختلف اوقات میں نئے واقعات سے جوڑ کر دوبارہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی واقعے کی ویڈیو میں دھواں یا آگ نظر آنا صرف واقعے کے وقوع پذیر ہونے کی تصدیق کرتا ہے، اس سے آگ لگنے کی وجہ یا حملے کی نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔
کسی آتشزدگی کو میزائل، ڈرون، حملے یا فوجی کارروائی سے جوڑنے کے لیے متعلقہ حکام کی تصدیق ضروری ہے۔ شہریوں کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ حساس حالات میں غیر مصدقہ اطلاعات، پرانی ویڈیوز اور سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔
ٹائٹل: دبئی ساؤتھ آتشزدگی، دھماکے اور میزائل حملے کے دعووں کی حقیقت سامنے آگئی، حکام نے ورکشاپ حادثے کو آگ لگنے کی وجہ قرار دے دیا







