متحدہ عرب امارات

دبئی میں والدین کو سکول کی حدود میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ نجی سکولوں نے دیگر طلبہ اور عملے کی تصاویر بغیر اجازت بنانے اور انہیں سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے متعلق ہدایات مزید سخت کردی ہیں۔

خلیج اردو
دبئی میں والدین کو سکول کی حدود میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ نجی سکولوں نے دیگر طلبہ اور عملے کی تصاویر بغیر اجازت بنانے اور انہیں سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے متعلق ہدایات مزید سخت کردی ہیں۔

دبئی کے ایک سکول کی جانب سے والدین کو جاری حالیہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ خاندان اور سکول آنے والے افراد ایسی تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے گریز کریں جن میں دوسرے طلبہ یا عملہ ان کی مناسب اجازت کے بغیر نظر آرہا ہو۔ سکول انتظامیہ کے مطابق یہ ہدایات متحدہ عرب امارات کے پرائیویسی قوانین اور نجی سکولوں میں حالیہ دنوں میں مزید سخت کی جانے والی رہنمائی کے تحت جاری کی گئی ہیں۔

نئی ہدایات صرف کلاس رومز تک محدود نہیں بلکہ سکول کی راہداریوں، کھیل کے میدانوں، اسمبلیوں اور بچوں کو سکول چھوڑنے یا واپس لے جانے کے مقامات پر بھی لاگو ہوں گی۔ والدین کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی تصاویر یا ویڈیوز جن میں دوسرے طلبہ واضح طور پر موجود ہوں، ان کی اجازت کے بغیر واٹس ایپ گروپس، سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر نہ کی جائیں۔

سکول انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں کی نجی زندگی کے تحفظ اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب موبائل فون اور سوشل میڈیا کے باعث کسی بھی تصویر یا ویڈیو کو چند لمحوں میں بڑے پیمانے پر پھیلایا جاسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وفاقی فرمان قانون نمبر 45 برائے 2021، جو ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق ہے، کے تحت عام طور پر ذاتی معلومات کو متعلقہ شخص کی رضامندی کے بغیر استعمال یا پراسیس نہیں کیا جاسکتا، تاہم قانون میں بعض مخصوص استثنیٰ بھی موجود ہیں۔ قانون میں ذاتی معلومات کی رازداری، تحفظ اور محفوظ طریقے سے استعمال سے متعلق تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔

سکولوں کے لیے یہ قانون دبئی کے نجی سکولوں کے ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ بھی لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں کو طلبہ کے حقوق کا تحفظ کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔

دبئی کے نجی سکولوں کے لیے کے ایچ ڈی اے کے موجودہ پروٹوکولز میں بھی فوٹوگرافی کو بچوں کی پرائیویسی سے متعلق معاملہ قرار دیا گیا ہے۔ ان رہنما اصولوں کے مطابق بچوں کو ایسی حساس یا کمزور صورتحال میں تصویر بنانا ان کی نجی زندگی کی خلاف ورزی تصور ہوسکتا ہے۔

اس صورتحال میں والدین کی جانب سے بنائی گئی بظاہر معمولی خاندانی تصویر بھی مسئلہ بن سکتی ہے، اگر اس کے پس منظر میں کوئی دوسرا بچہ واضح طور پر شناخت کیا جاسکتا ہو اور بعد میں وہ تصویر خاندان سے باہر شیئر کردی جائے۔ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب تصویر والدین کے موبائل فون سے نکل کر واٹس ایپ گروپس، سوشل میڈیا یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز تک پہنچ جائے، جہاں اس کی مزید شیئرنگ پر قابو رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

تاہم سکولوں کی نئی ہدایات کا مقصد والدین کو اپنے بچوں کی اہم یادگاروں کی تصاویر بنانے سے مکمل طور پر روکنا نہیں ہے۔ سکولوں کی جانب سے مخصوص تقریبات میں والدین کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے مقررہ مواقع اور مقامات فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ہر تقریب کے دوران واضح کیا جائے گا کہ فوٹوگرافی کہاں اور کس طریقے سے کی جاسکتی ہے۔

سکول انتظامیہ کے مطابق سرکاری طور پر سکول کی جانب سے بنائی جانے والی تصاویر بھی پہلے سے طے شدہ رضامندی اور بچوں کی حفاظت سے متعلق طریقہ کار کے تحت جاری رہیں گی۔

یہ فرق ان والدین کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو بچوں کی تقریبات، اسمبلی، کھیلوں کے دن یا دیگر سکول پروگرامز میں شرکت کرتے ہیں۔ سکول میں داخلے کی اجازت ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر بچے کی تصویر یا ویڈیو بنانے اور اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کی بھی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔

دبئی کے مختلف سکول پہلے ہی فوٹوگرافی اور ویڈیو بنانے سے متعلق اپنی پالیسیاں نافذ کیے ہوئے ہیں، جن میں بچوں کی تصاویر استعمال کرنے کے لیے والدین کی رضامندی اور سکول کی تقریبات یا سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرنے سے متعلق مخصوص ضوابط شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button