متحدہ عرب امارات

دبئی سے فلپائن واپس آنے والی خاتون ورکر کی منیلا ایئرپورٹ پر اوورسیز فلپائنی ورکرز لاؤنج میں داخلے سے مبینہ طور پر روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی

خلیج اردو
دبئی سے فلپائن واپس آنے والی خاتون ورکر کی منیلا ایئرپورٹ پر اوورسیز فلپائنی ورکرز لاؤنج میں داخلے سے مبینہ طور پر روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد بیرون ملک مقیم اور وطن واپس آنے والے فلپائنی کارکنوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بحث چھڑ گئی۔

ریمی روپیریو سانتوس نامی فلپائنی خاتون نے فیس بک پر جاری جذباتی ویڈیو میں بتایا کہ وہ نینوی اکینو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر اوورسیز فلپائنی ورکرز یعنی او ایف ڈبلیو لاؤنج میں آرام کرنے اور کچھ کھانے کے لیے داخل ہونا چاہتی تھیں، تاہم انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

او ڈبلیو ڈبلیو اے کے زیر انتظام او ایف ڈبلیو لاؤنج بیرون ملک سے روانہ ہونے والے فلپائنی کارکنوں یا اندرون ملک کنیکٹنگ پرواز کے منتظر مسافروں کے لیے مختص ہے۔ بیرون ملک مقیم فلپائنی شہریوں کی ترسیلات زر ملک کی معیشت میں تقریباً 8.5 سے 8.7 فیصد حصہ ڈالتی ہیں، جس کے باعث فلپائن دنیا کی بڑی معیشتوں میں ترسیلات زر پر زیادہ انحصار کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

ریمی سانتوس کے مطابق ایئرپورٹ پہنچنے کے وقت ان کے پاس رقم موجود نہیں تھی کیونکہ وہ اگلی صبح ہی رقم نکلوا سکتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ رقم ملنے کے بعد ہی وہ بس اور کشتی کے ٹکٹ خرید سکیں گی تاکہ اپنے آبائی علاقے تک پہنچ سکیں۔

خاتون نے لاؤنج کے عملے کو بتایا کہ ان کی کوئی کنیکٹنگ فلائٹ نہیں ہے کیونکہ ان کے صوبے کے لیے کوئی فضائی سروس موجود نہیں، تاہم اس وضاحت کے باوجود انہیں لاؤنج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سانتوس دو سال تک دبئی میں ملازمت کرنے کے بعد اپنے آبائی علاقے سبویان آئی لینڈ، صوبہ رومبلون واپس جا رہی تھیں۔ اس سے قبل وہ چھ سال تک کویت میں بھی کام کر چکی ہیں۔

ریمی سانتوس نے ویڈیو میں کہا کہ لاؤنج میں داخل ہونے اور کھانا کھانے کی اجازت نہ ملنا ان جیسے بیرون ملک کام کرنے والے فلپائنی کارکنوں کے ساتھ حکومتی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد او ڈبلیو ڈبلیو اے نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ سانتوس کی پریشانی اور صورتحال کو سمجھتا ہے۔ ادارے کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ سانتوس بعد میں لاؤنج میں داخل ہوگئی تھیں، جہاں عملے نے ان کی رجسٹریشن اور سامان کے معاملے میں مدد کی اور انہیں کھانے اور ریفریشمنٹ کی سہولت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

او ڈبلیو ڈبلیو اے نے وضاحت کی کہ او ایف ڈبلیو لاؤنج بنیادی طور پر بیرون ملک روانہ ہونے والے کارکنوں یا کنیکٹنگ پرواز کے منتظر مسافروں کے لیے مختص ہے، جبکہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 اور ٹرمینل 3 میں کسٹمز ایریا کے بعد وطن واپس آنے والے او ایف ڈبلیو کے لیے الگ معاونتی ڈیسک بھی قائم ہیں۔

ادارے نے کہا کہ وہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری رکھے گا اور مکمل رپورٹ جاری کرے گا۔ او ڈبلیو ڈبلیو اے کے مطابق تحقیقات کے دوران اگر کسی کوتاہی کی نشاندہی ہوئی تو اسے دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

واقعے پر کئی او ایف ڈبلیو کارکنوں نے سانتوس سے ہمدردی کا اظہار کیا، اگرچہ بعض افراد کا کہنا تھا کہ لاؤنج کا عملہ صرف مقررہ قواعد پر عمل درآمد کر رہا تھا۔ سعودی عرب میں کام کرنے والی کارمینا فلورز نے واقعے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانتوس عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں اضافی سہولت اور مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

مائیگرینٹ انٹرنیشنل کے چیئرمین ایمریٹس گیری مارٹینز نے بھی او ایف ڈبلیو لاؤنج کے موجودہ قواعد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی او ایف ڈبلیو سمندری اور زمینی راستے سے اپنے آبائی علاقے کی طرف سفر جاری رکھتا ہے تو اسے آرام کے لیے جگہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

گیری مارٹینز نے او ڈبلیو ڈبلیو اے سے پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز دی کہ کنیکٹنگ فلائٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی او ایف ڈبلیو کارکنوں کو لاؤنج استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کے مطابق اگر کنیکٹنگ فلائٹ والے مسافروں کے لیے قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ گھنٹے ہے تو بغیر کنیکٹنگ فلائٹ والے مسافروں کے لیے تین گھنٹے کی حد مقرر کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے او ڈبلیو ڈبلیو اے کو یاد دلایا کہ ہر او ایف ڈبلیو رکنیت فیس ادا کرتا ہے اور ماضی میں جب 25 ڈالر فیس وصول کی جاتی تھی تو وطن واپسی کے وقت یہ شرط نہیں رکھی جاتی تھی کہ مسافر کے پاس کنیکٹنگ فلائٹ موجود ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button