
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کی لہر کے دوران رواں سال اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کرلیا گیا۔
قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق بدھ 5 اگست کو ملک میں درجہ حرارت 51.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
این سی ایم کے مطابق سب سے زیادہ درجہ حرارت ابوظہبی کے الظفرہ ریجن کے علاقے بودو دفس میں ریکارڈ کیا گیا جہاں دوپہر 12 بج کر 45 منٹ پر پارہ 51.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔
اس سے قبل یکم اگست کو ابوظہبی کے علاقے الشوامخ میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
موسمیاتی مرکز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں موسم گرما اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جبکہ جمرۃ القیظ یعنی موسم گرما کی شدید گرمی کا دور 10 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق آسمان پر المِرزَم ستارے کا طلوع ہونا بھی موسم گرما کی شدید ترین گرمی کے اختتامی مرحلے اور موسم میں بتدریج تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسے سیرئیس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ آسمان کا روشن ترین ستارہ ہے۔
دوسری جانب ملک میں غیر مستحکم موسمی صورتحال بھی برقرار ہے۔ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق جمعہ 7 اگست تک مختلف علاقوں میں گرجدار بادل بننے کا امکان ہے جس کے باعث مزید بارش ہوسکتی ہے۔
این سی ایم کے مطابق شدید گرمی سطح زمین کو گرم کرکے گرجدار بادلوں کی تشکیل میں مدد دیتی ہے تاہم صرف گرمی بارش کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
بارش کے لیے فضا میں نمی، مرطوب ہوائیں، ماحولیاتی عدم استحکام، بالائی سطح پر کم دباؤ کا نظام اور سازگار ہواؤں سمیت متعدد عوامل کا ایک ساتھ موجود ہونا ضروری ہے۔
موسمی حالات سازگار ہوں تو درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہونے کے باوجود گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔







