
خلیج اردو
فلاٸی دبائی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 میں 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کے بعد طیارے میں موجود کریش ایکس کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے، تاہم یہ کوئی غیر قانونی طور پر لایا گیا ہتھیار نہیں بلکہ ہنگامی صورتحال میں استعمال ہونے والا حفاظتی سامان تھا۔ کریش ایکس کو ضرورت پڑنے پر طیارے کی کھڑکیوں، دروازوں یا پینلز کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 2025 میں اپ ڈیٹ کیے گئے قواعد کے مطابق ایسے طیاروں میں کم از کم ایک کریش ایکس یا کوا بار رکھنا ضروری ہے جن کا زیادہ سے زیادہ مصدقہ ٹیک آف وزن 5 ہزار 700 کلوگرام سے زیادہ ہو یا جن میں 9 سے زائد مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو۔
قواعد کے مطابق کریش ایکس یا کوا بار فلائٹ کریو کے کیبن میں رکھا جائے گا۔ اگر طیارے میں 200 سے زائد مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو تو ایک اضافی کریش ایکس یا کوا بار عقبی گَیلی کے اندر یا اس کے قریب نصب کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ سامان مسافروں کے کیبن میں موجود ہو تو اسے مسافروں کی نظروں سے اوجھل رکھا جانا چاہیے۔
فلاٸی دبائی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں کریش ایکس کی موجودگی بھی قواعد کے مطابق ضروری تھی۔ پرواز میں دبئی سے تل ابیب جانے والے 174 مسافر سوار تھے، جبکہ فلاٸی دبائی بوئنگ 737 طیاروں کا بیڑا استعمال کرتی ہے۔ بوئنگ 737-800، بوئنگ 737 میکس 8 اور بوئنگ 737 میکس 9 تینوں طیاروں کا زیادہ سے زیادہ مصدقہ ٹیک آف وزن 5 ہزار 700 کلوگرام کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔
واقعے کے بعد فلاٸی دبائی نے ابتدائی طور پر کہا کہ طیارے میں پیش آنے والے ایک واقعے کے باعث پرواز کا رخ موڑ کر سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کرائی گئی۔ بعد میں کمپنی نے تصدیق کی کہ طیارے میں عملے کے ارکان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ تمام مسافر محفوظ رہے جبکہ فلاٸی دبائی نے تبوک سے مسافروں کی واپسی کے لیے دو متبادل طیارے بھی روانہ کیے۔
اسی روز فلاٸی دبائی نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا جبکہ ایمریٹس نے بھی فلاٸی دبائی کے ساتھ کوڈ شیئر کے تحت تل ابیب سے آنے اور جانے والی پروازیں معطل کردیں۔
متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے ابتدائی بیان میں واقعے کو سکیورٹی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ واقعے میں طیارے کے عملے کے بعض ارکان زخمی ہوئے جنہیں سعودی عرب میں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یکم اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے ماہر ارکان پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔
سعودی حکام کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی ٹیم کے تعاون سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات کے مطابق شریک پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہوئے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے زخمی کپتان کی شناخت بھارتی شہری کیپٹن سمیت مچھر کے طور پر کی تھی۔
یکم اکتوبر کو متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفارتخانے نے تصدیق کی کہ پائلٹ کی حالت بہتر ہے اور وہ صحتیابی کی جانب گامزن ہیں۔ بھارتی سفیر دیپک متل نے بھی ہسپتال میں کیپٹن سمیت مچھر اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
2 اکتوبر کو زخمی پائلٹ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے گفتگو میں واقعے کے بعد اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولا کیونکہ وہ تمام لوگوں کو مرنے نہیں دے سکتے تھے۔
اسی روز متحدہ عرب امارات کے صدارتی سفارتی مشیر انور قرقاش نے پائلٹ کو حقیقی ہیرو قرار دیتے ہوئے خطرناک دہشتگرد حملے کے دوران ان کی بہادری اور ذمہ داری کو سراہا۔ فلاٸی دبائی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیث الغیث نے بھی کپتان، عملے اور ان مسافروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے طیارے کو محفوظ رکھنے اور لینڈنگ میں مدد کی۔
3 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کی تحقیقات میں کہا گیا کہ فلاٸی دبائی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر دہشتگرد کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ اٹارنی جنرل کے مطابق شریک پائلٹ نے دوران پرواز کریش ایکس کے ذریعے کاک پٹ میں موجود پائلٹ پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔
حکام کے مطابق واقعے کے مکمل حالات، محرکات اور ممکنہ روابط کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حتمی نتائج ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی زخمی پائلٹ سے ملاقات کی اور ان کی بہادری، ذمہ داری اور مسافروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کو سراہا۔







