
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں پراپرٹی ڈویلپرز نے شارجہ، دبئی اور ابوظبی کو ملانے والے نئے 80 کلومیٹر فورتھ کوریڈور کے اطراف سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع تلاش کرنا شروع کردیئے ہیں۔ ڈویلپرز کے مطابق نئی شاہراہ کے باعث ایسے علاقے بھی رہائشیوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش ہوجائیں گے جہاں ماضی میں رسائی نسبتاً مشکل سمجھی جاتی تھی۔
ستمبر 2026 میں اعلان کیا گیا فورتھ کوریڈور متحدہ عرب امارات کی ریاستوں کو ملانے والا چوتھا اسٹریٹجک روڈ ایکسس ہوگا۔ اس سے قبل شیخ زاید روڈ، اتحاد روڈ، شیخ محمد بن زاید روڈ اور ایمریٹس روڈ اہم رابطہ راستوں کے طور پر موجود ہیں۔ نئے کوریڈور سے اس کے راستے میں نئی رہائشی اور تجارتی کمیونٹیز کے قیام کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
رپورٹیج گروپ کے گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر آندریا نوسیرا نے بتایا کہ کمپنی نے کوریڈور کے راستے کے قریب ابوظبی میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل ایک زمین حاصل کی ہے، جہاں تقریباً 3 ہزار 800 یونٹس کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ممکنہ طور پر 2027 یا 2028 میں مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
آندریا نوسیرا نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات کی پراپرٹی مارکیٹ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کے دوران ڈویلپرز تقریباً کسی بھی منصوبے کو لانچ کرکے مضبوط طلب دیکھ سکتے تھے، تاہم اب مارکیٹ معمول کی صورتحال کی جانب واپس آچکی ہے، اگرچہ دیگر ممالک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات میں پراپرٹی کی فروخت کی رفتار اب بھی غیر معمولی ہے۔
فورتھ کوریڈور کے بعض حصوں پر سفر کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کی تفصیلات کے مطابق ایک حصے پر سفر کا وقت 35 منٹ سے کم ہوکر صرف 14 منٹ رہ سکتا ہے۔ 80 کلومیٹر طویل کوریڈور دو مراحل میں تعمیر کیا جائے گا، جن سے بالترتیب تقریباً 6 لاکھ اور 31 لاکھ افراد کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔
پینتھیون کے چیئرمین کلپیش کیناری والا نے کہا کہ انفراسٹرکچر کمپنی کے لیے پراپرٹی کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بہتر رابطہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ لوگ کہاں رہتے، کام کرتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فورتھ کوریڈور دبئی العین روڈ سے منسلک ہوگا اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقوں تک رسائی بہتر بنائے گا، جس سے ان علاقوں میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
کلپیش کیناری والا کے مطابق فورتھ کوریڈور جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کا سب سے اہم اثر کسی علاقے تک رسائی میں بہتری اور اس کے نتیجے میں اس علاقے کی ترقی کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔ تینوں امارات کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہونے سے کوریڈور کے اطراف کے ایسے علاقے بھی کھلیں گے جو پہلے نسبتاً کم قابل رسائی سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کوریڈور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اتحاد ریل جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو بھی آپس میں جوڑتا ہے۔ بہتر رابطے کے باعث لوگ ایسے علاقوں میں رہائش یا کام کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں جہاں پہلے رسائی کے مسائل کی وجہ سے طلب محدود تھی، جس سے نئی کمیونٹیز کے قیام اور وقت کے ساتھ کرایوں میں اضافے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم کلپیش کیناری والا نے واضح کیا کہ صرف انفراسٹرکچر کسی علاقے کے کرایوں کا تعین نہیں کرتا۔ ترقیاتی منصوبے کا معیار، دستیاب رہائشی یونٹس، سہولیات اور طلب کی گہرائی بھی اہم عوامل ہیں۔ ان کے مطابق ڈویلپرز کے لیے اصل موقع یہ ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے ترقیاتی کوریڈورز کی بروقت نشاندہی کریں اور ایسی رہائشی و کمرشل کمیونٹیز تشکیل دیں جو بہتر رابطے سے فائدہ اٹھا سکیں۔







