
خلیج اردو
دبئی میں سونے کی قیمت 500 درہم فی گرام سے نیچے آنے کے بعد نورتری، دھن تیرس اور دیوالی کے تہواروں سے قبل بھارتی تارکین وطن اور غیر مقیم بھارتی خاندانوں نے زیورات کی خریداری جلد شروع کردی ہے۔
دبئی جیولری گروپ کے چیئرمین توحید عبداللہ کے مطابق نورتری سے دھن تیرس اور دیوالی تک کا عرصہ متحدہ عرب امارات میں سونے کے زیورات کی خریداری کے لیے سال کے اہم ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے، خصوصاً جنوبی ایشیائی برادری سے تعلق رکھنے والے خریدار اس موقع پر سونا خریدنا بابرکت سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خاندان تہواروں کی خریداری پہلے سے شروع کررہے ہیں۔
توحید عبداللہ نے کہا کہ سونے کی قیمت میں کمی عام طور پر غیر مقیم بھارتی شہریوں اور بھارتی سیاحوں کی خریداری بڑھا دیتی ہے، کیونکہ وہ اسے بہتر قیمت پر خریداری کا موقع سمجھتے ہیں۔ دبئی جیولری گروپ 24 اکتوبر سے 12 نومبر تک شریک جیولرز کے ساتھ دیوالی مہم بھی چلائے گا، جس میں خصوصی پیشکشوں کے ساتھ ایک کلو سونے کے انعامی قرعہ اندازی بھی شامل ہوگی۔
دبئی اور متحدہ عرب امارات میں ہفتے کے اختتام پر 24 قیراط سونے کی قیمت دوبارہ 500 درہم فی گرام سے نیچے آگئی اور 499 درہم فی گرام پر بند ہوئی۔ 22 قیراط سونا 462 درہم، 21 قیراط 443 درہم جبکہ 18 قیراط سونا 379.75 درہم فی گرام پر آگیا۔
بافلہ جیولرز کے منیجنگ ڈائریکٹر چراغ وورا کے مطابق نورتری، دھن تیرس اور دیوالی جیسے تہوار سونا خریدنے کے ثقافتی رجحان کے باعث صارفین کے خریداری کے فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ ان کے مطابق قیمتوں میں کمی اور تہواروں کے قریب آنے سے خریداری کا رجحان مزید بڑھ گیا ہے اور کئی صارفین قیمت لاک کرنے کی سہولت استعمال کرتے ہوئے موجودہ نرخ پر سونا بک کرارہے ہیں تاکہ تہوار کے دنوں میں مقررہ قیمت پر زیورات حاصل کرسکیں۔
چراغ وورا نے کہا کہ دبئی میں سونے کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق ہوتی ہیں اور بھارت میں سونے پر عائد درآمدی محصولات اور جی ایس ٹی کی صورتحال کے باعث سرحد پار خریداروں کے لیے قیمتوں میں کمی سے مجموعی بچت کا فرق مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق قیمت کم ہونے پر غیر مقیم بھارتی شہری اور بھارتی سیاح عموماً زیادہ مقدار میں سونا خریدتے ہیں۔
دوسری جانب کانز جیولز کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل دھنک کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں کمی صارفین کو فوری خریداری کے لیے بہتر موقع فراہم کرتی ہے، تاہم زیورات کی خریداری صرف قیمت پر منحصر نہیں۔ ڈیزائن، خالص پن، کاریگری، تہوار یا تقریب اور خریدار کی ذاتی ضرورت بھی اہم عوامل ہیں۔
جویلکاس جیولری کے چیف ایگزیکٹو جان پال الکاس کے مطابق تہواروں کا موسم پہلے ہی غیر مقیم بھارتی شہریوں اور بھارتی سیاحوں کو سونا خریدنے کی ترغیب دیتا ہے، جبکہ اس سال قیمتوں میں کمی نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق کئی خریدار دبئی کے دورے، شادیوں یا تہواروں سے قبل سونا خریدنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور قیمت کم ہونے پر فوری خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔
جان پال الکاس نے کہا کہ قیمت بڑھنے کے باوجود غیر مقیم بھارتی شہریوں کی سونے میں دلچسپی برقرار رہتی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات سے سونا خریدنا بہت سے خاندانوں کے لیے صرف قیمت کا معاملہ نہیں بلکہ وطن واپسی، شادیوں اور تہواروں سے جڑی ایک روایت بن چکا ہے۔







