
خلیج اردو
امریکا نے بعض ممالک کے شہریوں کے لیے نئے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل کر دیا ہے تاہم پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں۔
نئے پروگرام کے تحت 50 ممالک کے شہریوں سے امریکا کا وزٹ ویزا حاصل کرنے سے قبل 10 ہزار سے 20 ہزار ڈالر تک قابل واپسی سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری فہرست کے مطابق جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش اور نیپال اس پروگرام میں شامل ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت فہرست میں شامل نہیں۔
نیا پروگرام یکم اگست سے نافذ ہوا ہے اور اس کا اطلاق B-1 بزنس اور B-2 ٹورسٹ ویزا کے درخواست گزاروں پر ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 2025 میں شروع کیے گئے پائلٹ پروگرام کے نتائج کے بعد کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پروگرام کے دوران متعلقہ ممالک کے شہریوں کی جانب سے ویزا مدت سے زیادہ قیام کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
امریکی حکام کے مطابق 2024 میں ان 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے 45 ہزار 488 اوور اسٹے کیسز سامنے آئے تھے جبکہ پائلٹ پروگرام کے ابتدائی 10 ماہ میں ایسے کیسز کی تعداد 50 سے بھی کم رہی۔
نئے قواعد کے تحت ویزا بانڈ کی زیادہ سے زیادہ رقم 15 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے جبکہ سابقہ کم از کم 5 ہزار ڈالر کی حد بھی ختم کردی گئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ فہرست میں شامل ممالک کے تمام شہریوں پر بانڈ لازمی نہیں ہوگا۔ امریکی قونصلر افسر ہر درخواست کا انفرادی جائزہ لے کر فیصلہ کرے گا کہ درخواست گزار سے بانڈ طلب کیا جائے یا نہیں۔
اگر ویزا ہولڈر تمام شرائط کی پابندی کرتے ہوئے اجازت دی گئی مدت کے اندر امریکا سے واپس چلا جائے تو بانڈ کی رقم واپس کردی جائے گی۔ تاہم ویزا مدت سے تجاوز یا دیگر شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں رقم ضبط ہونے کا خطرہ ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق پروگرام میں افریقہ کے 30 ممالک سمیت ایشیا، کیریبین اور بحرالکاہل کے خطے کے متعدد ممالک شامل ہیں۔
پاکستانی شہریوں کے لیے فی الحال اس نئے پروگرام کے تحت 10 ہزار سے 20 ہزار ڈالر کا ویزا بانڈ جمع کرانے کی شرط عائد نہیں کی گئی۔







