عالمی خبریں

بنگلہ دیش میں حکمران جماعت کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر نئے صدر منتخب، 255 ووٹ حاصل کر لیے

خلیج اردو
بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ نے حکمران جماعت کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ صدر کا عہدہ زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے جو سابق صدر کے قبل از وقت استعفے کے بعد خالی ہوا تھا۔

78 سالہ عالمگیر، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سیکریٹری جنرل اور مقامی حکومت کے وزیر ہیں، نے 255 ووٹ حاصل کر کے ملک کے 23ویں صدر کا منصب سنبھال لیا۔

چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم نصیرالدین کے مطابق اپوزیشن کے 11 جماعتی اتحاد کی جانب سے نامزد امیدوار اولی احمد نے 88 ووٹ حاصل کیے۔

عالمگیر نے صدر منتخب ہونے سے قبل کہا تھا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اپنی نئی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ صدر بنیں گے، یہ پارٹی اور اللہ کا فضل ہے۔

بی این پی نے فروری میں ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، جو 2024 کی عوامی تحریک کے بعد پہلے انتخابات تھے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

نئے صدر کا انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے جولائی میں استعفے کے بعد عمل میں آیا، جنہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔ شہاب الدین نے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا، حالانکہ ان کی مدت 2028 تک تھی۔

مرزا فخر الاسلام عالمگیر 26 جنوری 1948 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں معاشیات کی تعلیم کے دوران سیاست کا آغاز کیا اور 1969 کی طلبہ تحریک میں اہم کردار ادا کیا جو بعد میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ بنی۔

انہوں نے بعد میں سرکاری ملازمت کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور زراعت، ہوا بازی اور سیاحت سمیت مختلف وزارتوں میں خدمات انجام دیں۔

شیخ حسینہ کے دور حکومت میں وہ اپوزیشن کے نمایاں رہنما بن کر سامنے آئے۔ بی این پی کے سربراہ خالدہ ضیا کی گرفتاری اور پارٹی رہنما طارق رحمان کی جلاوطنی کے دوران انہوں نے پارٹی کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عالمگیر کئی بار گرفتار بھی ہوئے اور ان پر متعدد مقدمات قائم کیے گئے جنہیں انہوں نے سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا قرار دیا۔ وہ راحت آرا بیگم سے شادی شدہ ہیں اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button