
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کرکٹ، فٹبال اور بیڈمنٹن کھیلنے والے بعض شہری اب صرف کھیل کے قواعد سیکھنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اچانک کسی کھلاڑی کے گرنے کی صورت میں فوری مدد فراہم کرنے کیلئے سی پی آر یعنی کارڈیو پلمونری ری سسیٹیشن سیکھ رہے ہیں۔
رواں سال یو اے ای میں کھیلوں کے دوران کھلاڑیوں کی اچانک اموات کے واقعات کے بعد اس حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ جون میں 38 سالہ محمد صفوان شانو دبئی میں ایک معمول کے کرکٹ میچ کے دوران گر گئے تھے۔ ان کے دوستوں نے ایمبولینس طلب کی اور انہیں سی پی آر دی گئی، تاہم ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ چند روز بعد 42 سالہ انور صادق بھی دبئی میں بیڈمنٹن کھیلتے ہوئے گر گئے اور ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔
فلپائنی شہری کرسانتو رے کیلئے سی پی آر سیکھنے کی وجہ اس سے بھی کئی سال پہلے پیش آنے والا واقعہ تھا۔ تقریباً 15 سال قبل ان کے آبائی شہر میں ایک قریبی دوست بیڈمنٹن کھیلتے ہوئے اچانک گر کر انتقال کر گیا تھا۔
کرسانتو رے نے بتایا کہ اس وقت ان میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔ بعد میں وہ مسلسل سوچتے رہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو سی پی آر آتی ہوتی تو شاید ان کے دوست کو بچایا جاسکتا تھا۔
دوست کی موت کے تقریباً پانچ سال بعد رے نے زندگی بچانے کی اس مہارت کو سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے اور متاثرہ شخص دوست، ساتھی کارکن یا کوئی اجنبی بھی ہوسکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ایک صفائی کمپنی سے وابستہ رے اکثر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہیں۔ چند سال قبل وہ صورتحال ان کے سامنے بھی پیش آگئی جس کیلئے وہ پہلے سے تیاری کرچکے تھے۔ ایک کرکٹ میچ کے دوران مخالف ٹیم کا ایک کھلاڑی اچانک گر گیا۔
رے کے مطابق یہ واقعہ غالباً 2019 میں پیش آیا، جب انہوں نے ایمبولینس پہنچنے تک کھلاڑی کو سی پی آر دی۔ ان کے بقول سی پی آر سے مدد ملی، جس کے بعد طبی ٹیم نے ذمہ داری سنبھالی اور کھلاڑی کی حالت مستحکم کی۔
رے نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی کہ اس مرتبہ وہ جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے۔ ان کے مطابق سی پی آر زندگی بچانے والی مہارت ہے اور ہر کھیلوں کی ٹیم کے کم از کم دو یا تین ارکان کو یہ تربیت حاصل ہونی چاہیے۔
القصیص کے رہائشی حبشان حسن بھی اکثر ہفتہ وار تعطیلات میں کرکٹ کھیلتے ہیں اور انہوں نے بھی سی پی آر سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق جہاں وہ کھیلتے ہیں وہاں انتظامیہ کی جانب سے تربیت یافتہ افراد موجود ہوتے ہیں، تاہم ٹیم کے چند ارکان کو بھی سی پی آر آنا چاہیے۔
حسن کے بھائی ڈاکٹر ہیں اور وہ گھر میں اکثر اچانک کسی شخص کے گرنے کی صورت میں ابتدائی چند منٹ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے تھے۔ حسن کے مطابق وقتاً فوقتاً کرکٹرز کے میدان میں گرنے کی خبریں سامنے آتی ہیں اور کھلاڑیوں کی کھیل کے دوران اموات بھی خبروں میں آتی رہتی ہیں، جس کے بعد انہوں نے سی پی آر سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
حسن نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ سی پی آر استعمال بھی کرچکے ہیں، تاہم اس معاملے میں صورتحال سنگین طبی ایمرجنسی میں تبدیل نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق صفوان کی موت کی خبر نے بھی انہیں متاثر کیا اور ان کا خیال ہے کہ کھیل کے دوران کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ٹیم میں ایسے افراد ضرور ہونے چاہئیں جو فوری طور پر ضروری اقدامات کرسکیں۔
کھیلوں کے دوران کھلاڑیوں کے اچانک گرنے کے واقعات سننے کے بعد دیگر افراد بھی سی پی آر تربیت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سالد کے نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست سی پی آر ٹریننگ میں داخلہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ کھیل کے دوران کوئی واقعہ پیش آنے کی صورت میں طبی امداد پہنچنے تک کم از کم کچھ افراد ابتدائی مدد فراہم کرسکیں۔
میڈکیئر رائل اسپیشلٹی ہسپتال کی اسپیشلسٹ کارڈیالوجی ڈاکٹر یوگیشوری ویلور ستیانارائنن کے مطابق کھیل کے دوران کسی شخص کا اچانک گر جانا، خصوصاً اس وقت جب وہ بے ہوش ہو اور معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو، طبی ایمرجنسی سمجھا جانا چاہیے۔
ایسی صورتحال میں ایک شخص کو فوری طور پر ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کرنا چاہیے جبکہ دوسرا شخص دستیاب ہونے کی صورت میں خودکار بیرونی ڈیفبریلیٹر یعنی اے ای ڈی تلاش کرے۔ اگر متاثرہ شخص معمول کے مطابق سانس نہیں لے رہا تو ایمرجنسی ڈسپچر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سی پی آر شروع کردی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر یوگیشوری کے مطابق ابتدائی سی پی آر اور ڈیفبریلیشن ان اہم ابتدائی منٹوں کے دوران دماغ تک خون کی روانی برقرار رکھنے میں انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں، جب تک طبی امداد موقع پر نہیں پہنچ جاتی۔
انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے مراکز، جم، سکول، کام کی جگہوں، ہوائی اڈوں اور شاپنگ سینٹرز میں اے ای ڈی آسانی سے دستیاب ہونے چاہئیں اور لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی تربیت بھی دی جانی چاہیے۔
متحدہ عرب امارات میں سی پی آر سیکھنے کے خواہشمند شہری سرکاری معاونت سے چلنے والے تربیتی پروگراموں میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ دبئی کارپوریشن فار ایمبولینس سروسز کمیونٹی کیلئے تربیت فراہم کرتی ہے، جس میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا ہارٹس سیور کورس بھی شامل ہے، جبکہ ابوظبی سول ڈیفنس اتھارٹی بھی شہریوں کیلئے سی پی آر، ابتدائی طبی امداد اور اے ای ڈی کے استعمال کی تربیت فراہم کرتی ہے







