متحدہ عرب امارات

بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بھارت میں احتجاج میں شرکت کے بعد ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

خلیج اردو
بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بھارت میں احتجاج میں شرکت کے بعد ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ امریکی شہریت رکھنے والے اداکار کی ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شرکت کے بعد ان کی شہریت اور بھارت میں قیام سے متعلق قانونی حیثیت زیر بحث آگئی ہے۔

عمران خان 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر اہتمام احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔ احتجاج میں شرکت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اداکار کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

عمران خان بالی ووڈ کی رومانوی کامیڈی فلموں ’’جانے تو یا جانے نہ‘‘ اور ’’دہلی بیلی‘‘ میں اداکاری کے باعث معروف ہیں۔ وہ بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان کے بھانجے ہیں اور تقریباً ایک دہائی سے فلمی دنیا سے دور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ دسمبر میں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے والی فلم ’’ادھورے ہم ادھورے تم‘‘ کے ذریعے واپسی کی تیاری کررہے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کیرت سومیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران اداکار کی تقاریر اور ان کے سابقہ بیانات سے متعلق شواہد پولیس کو فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عمران خان نے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا یعنی او سی آئی کی حیثیت کا غلط استعمال کیا ہے۔

لیو انڈیا نوٹس کیا ہے؟

لیو انڈیا نوٹس ایسا حکم ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی غیر ملکی شہری کو مقررہ مدت کے اندر بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ایسے نوٹس غیر ملکی شہریوں کو جاری کیے جاسکتے ہیں اور متعلقہ شخص کو قانونی طور پر اسے چیلنج کرنے کا حق بھی حاصل ہوسکتا ہے۔

عمران خان کی شہریت کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس او سی آئی کارڈ بھی ہے۔ اس کارڈ کے باوجود انہیں بھارتی شہری کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ او سی آئی کارڈ رکھنے والے افراد کو بھارت میں متعدد بار داخلے کی سہولت ملتی ہے، تاہم انہیں بھارتی انتخابات میں حصہ لینے سمیت شہریوں کے بعض سیاسی حقوق حاصل نہیں ہوتے۔

بھارتی قوانین کے تحت غیر ملکی شہریوں کے داخلے، قیام، نقل و حرکت اور ملک سے بے دخلی سے متعلق اختیارات حکومت کو حاصل ہیں۔ امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کی دفعہ 7 حکومت کو غیر ملکیوں کی آمد، روانگی، موجودگی اور نقل و حرکت کو منظم یا محدود کرنے کے لیے احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

اسی قانون کی دفعہ 29 کے تحت بھی بعض حالات میں کسی غیر ملکی کو بھارت سے نکالنے کا حکم دیا جاسکتا ہے، جن میں قانون یا اس کے تحت جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی اور سکیورٹی سے متعلق منفی رپورٹ شامل ہیں۔ تاہم کسی مخصوص معاملے میں اس اختیار کے اطلاق کا انحصار متعلقہ حقائق اور قانونی کارروائی پر ہوگا۔

عمران خان جس احتجاج میں شریک ہوئے، اس کا تعلق بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل سے لاکھوں ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہوسکتے ہیں اور اس کا فائدہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد جعلی اور دہرے ووٹوں سمیت نااہل ووٹرز کے نام نکالنا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button