متحدہ عرب امارات

شارجہ پولیس نے سائبر حملوں، کرپٹو کرنسی کی چوری، دھوکا دہی اور منی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث چار بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

خلیج اردو
شارجہ پولیس نے سائبر حملوں، کرپٹو کرنسی کی چوری، دھوکا دہی اور منی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث چار بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ حکام کے مطابق آپریشن ’’اینڈ آف بیٹل‘‘ کے دوران 8.8 ارب درہم مالیت کی مبینہ منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آئے، جبکہ 20 کروڑ درہم سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے۔ مقدمے میں 33 ملزمان اور کمپنیوں کو شارجہ کی فوجداری عدالت میں بھیج دیا گیا ہے، جن میں چھ کاروباری ادارے بھی شامل ہیں۔ انفرادی ملزمان کا تعلق 12 مختلف قومیتوں سے بتایا گیا ہے۔

شارجہ میڈیا سٹی میں جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران حکام نے اس کارروائی کو شارجہ پولیس کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سرحد پار منظم جرائم کی پیچیدہ ترین تحقیقات میں سے ایک قرار دیا۔ شارجہ پولیس کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ مبارک بن عامر نے بتایا کہ آپریشن کے ذریعے دنیا بھر میں 30 سے زائد کمپنیوں اور اداروں کو تحفظ فراہم کیا گیا، جبکہ 65 ارب درہم سے زائد مالیت کے اثاثوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔ حکام کے مطابق اس کارروائی سے عالمی ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ پر ممکنہ معاشی اثرات کو روکنے میں بھی مدد ملی۔ تحقیقات کے دوران 3 ہزار سے زائد ڈیجیٹل والٹس کی جانچ اور تصدیق کی گئی۔

شارجہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل برائے کرمنل سکیورٹی اینڈ پورٹس میجر جنرل عمر احمد بالزود کے مطابق یہ نیٹ ورک چار باہم منسلک گروہوں پر مشتمل تھا، جن میں سے ہر ایک کو جرائم کے مختلف مراحل کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ پہلا گروہ کمپیوٹر سسٹمز ہیک کرنے اور ڈیٹا چرانے میں ملوث تھا، دوسرا مبینہ طور پر ورچوئل اثاثوں کے ذریعے غیر قانونی رقم کو قانونی ظاہر کرنے کا کام کرتا تھا، جبکہ تیسرا سوشل انجینئرنگ کے ذریعے لوگوں کو دھوکے سے معلومات فراہم کرنے یا اپنے ڈیجیٹل والٹس تک رسائی دینے پر آمادہ کرتا تھا۔

چوتھے گروہ پر الزام ہے کہ وہ ڈیجیٹل والٹس کے مالکان کو پاس کوڈ بتانے پر مجبور کرنے کے لیے جسمانی تشدد، دھمکیوں، اغوا اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے جیسے طریقے استعمال کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق ایسے واقعات متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں پیش آئے۔ مختلف گروہوں میں ذمہ داریوں کی تقسیم کے باعث نیٹ ورک سرحد پار افراد، کاروباری اداروں اور تنظیموں کو نشانہ بناتا رہا، جبکہ اس کی قیادت اور اندرونی ڈھانچے کا سراغ لگانا بھی مشکل ہوگیا تھا۔

تحقیقات کا ابتدائی سراغ ایک کم عمر مشتبہ شخص سے ملا، جس کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کا جائزہ لینے کے بعد پولیس اس تک پہنچی۔ حکام کے مطابق اس کے پاس ایک ڈیجیٹل والٹ موجود تھا جس میں بھاری رقم رکھی گئی تھی۔ تفتیش کاروں نے مبینہ طور پر اسے ڈیجیٹل والٹس کی چوری میں ملوث بین الاقوامی گروہوں سے منسلک پایا، جبکہ اس پر دھوکا دہی، ہیکنگ اور سائبر بھتہ خوری سے حاصل ہونے والے ورچوئل اثاثوں کی منی لانڈرنگ میں کردار ادا کرنے کا الزام بھی ہے۔

مزید نگرانی کے دوران پولیس نے ایک اہم رابطہ کار کا سراغ لگایا، جس پر کم عمر مشتبہ شخص کے ساتھ مل کر کرپٹو کرنسی کی منی لانڈرنگ اور مالی لین دین چھپانے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق وہ مبینہ طور پر حملوں، اغوا، ڈیجیٹل والٹس کی چوری اور ڈارک ویب پر چوری شدہ ڈیٹا رکھنے اور فروخت کرنے میں بھی ملوث تھا۔ پولیس نے اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد گرفتاری کا منصوبہ بنایا اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچنے کے لیے کارروائی کی۔

تحقیقات کے دوران ڈیجیٹل والٹس رکھنے والے افراد کو اغوا کرنے کی مبینہ سازش بھی سامنے آئی۔ پولیس کے مطابق اہم رابطہ کار غیر ملکی شہریوں کے ایک گروہ کے ساتھ مل کر ممکنہ متاثرین کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا، تاہم بروقت کارروائی کرکے اسے گرفتار کرلیا گیا۔ میجر جنرل بالزود نے مزید بتایا کہ نیٹ ورک کے ایک رکن، جو خود بھی ڈیجیٹل والٹ رکھتا تھا، کو قتل کرنے کی سازش بھی ناکام بنائی گئی۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں اس منصوبے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ ملزمان ایک خفیہ آن لائن گروپ کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے، جس کا کوڈ ہر آٹھ گھنٹے بعد تبدیل کیا جاتا تھا۔ نیٹ ورک کا ڈھانچہ منظم تھا اور ہر رکن کو مخصوص ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ بعض ملزمان مبینہ طور پر سسٹمز ہیک کرکے ڈیٹا بیس چراتے اور دوسرے ارکان کو فراہم کرتے تھے، جو اس ڈیٹا کو ترتیب دے کر ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کرتے تھے۔ چوری شدہ معلومات کو مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی مدد سے فشنگ اور آن لائن دھوکا دہی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

نیٹ ورک کے دیگر ارکان متاثرین سے رابطہ کرکے انہیں رقم منتقل کرنے پر آمادہ کرتے، جبکہ ایک الگ گروہ ڈیجیٹل اثاثوں اور والٹس کا انتظام سنبھالتا تھا۔ پولیس کے مطابق متاثرین سے حاصل کی گئی کرپٹو کرنسی مختلف والٹس اور پلیٹ فارمز کے ذریعے منتقل اور تقسیم کی جاتی، تاکہ رقم کے اصل ذرائع اور حتمی مستفید ہونے والوں کی شناخت چھپائی جاسکے۔

شارجہ پبلک پراسیکیوشن کے مطابق مبینہ منی لانڈرنگ میں شامل رقم کی مجموعی مالیت 8 ارب 82 کروڑ 53 لاکھ 81 ہزار 741 درہم اور 50 فلس تھی، جو تقریباً 8.8 ارب درہم بنتی ہے۔ شارجہ کے اٹارنی جنرل انور امین الحرمودی نے بتایا کہ جرائم کا سلسلہ متاثرین کو دھوکا دینے اور ان کے اکاؤنٹس ہیک کرنے سے شروع ہوتا، پھر رقم اور ڈیجیٹل اثاثے چوری کرکے ان کے ذرائع چھپائے جاتے اور انہیں جائیدادوں اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرکے قانونی آمدن ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

تحقیقات کے مطابق رقم بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل والٹس اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منتقل کی گئی، جبکہ کمپنیوں اور درمیانی رابطہ کاروں کو مالی لین دین چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ مبینہ غیر قانونی آمدن سے جائیدادیں، لگژری گاڑیاں، مہنگی گھڑیاں اور زیورات خریدے گئے۔ حکام کے مطابق بڑی رقوم کی تیز رفتار سرحد پار منتقلی اور متعدد اداروں کے استعمال نے رقم کا سراغ لگانے اور اصل مستفید ہونے والوں کی شناخت میں مشکلات پیدا کیں۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمان خود کو کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار ظاہر کرتے تھے، بین الاقوامی دارالحکومتوں کا سفر کرتے اور مہنگی گاڑیوں، نجی طیاروں اور قیمتی جائیدادوں کے ذریعے اپنی دولت کی نمائش کرتے تھے۔ چھاپوں کے دوران نقد رقم، الیکٹرانک آلات اور دیگر اثاثے برآمد کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت کروڑوں درہم میں بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق بعض برآمد شدہ کرنسی اصلی اور بعض جعلی تھی، جبکہ جعلی نوٹ بھی دھوکا دہی میں استعمال کیے جاتے تھے۔

پولیس نے دبئی میں ایک لگژری رہائش گاہ بھی ضبط کی۔ ضبط یا منجمد کیے گئے اثاثوں میں 17 لگژری گاڑیاں، 29 مہنگی گھڑیاں، زیورات، ایک رہائشی ولا، زیر تعمیر دو ولاز اور دو رہائشی پلاٹس شامل ہیں۔ تلاشی کے دوران آف لائن کرپٹو کرنسی کی معلومات محفوظ رکھنے والے کولڈ والٹ آلات، منشیات، جعلی کرنسی اور نوٹ بنانے کے آلات بھی برآمد ہوئے۔ پولیس کے مطابق ضبط کیے گئے نقد فنڈز اور دیگر اثاثوں کی مجموعی مالیت 20 کروڑ درہم سے زیادہ ہے۔

پراسیکیوشن اور تفتیشی ٹیموں نے جرائم کے نیٹ ورک، مالی لین دین اور ملزمان کے کردار کا تعین کرنے کے لیے 10 ہزار سے زائد دستاویزات اور رپورٹس کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران 142 تفتیشی ریکارڈ اور سیشنز مکمل کیے گئے، 385 فیصلے اور 478 عدالتی احکامات جاری ہوئے، جبکہ 103 الیکٹرانک آلات کا تجزیہ کیا گیا۔ کارروائی میں 12 تلاشی کے اجازت نامے، مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ کے ساتھ رابطے کے لیے 109 درخواستیں اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق آٹھ درخواستیں یا کارروائیاں بھی شامل تھیں۔

شارجہ پولیس نے وزارت داخلہ، دیگر سکیورٹی اداروں اور انٹرپول کے تعاون سے بیرون ملک موجود اہم مشتبہ افراد کا سراغ لگایا اور انہیں متحدہ عرب امارات واپس لایا۔ حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف شواہد جمع کرکے پراسیکیوشن کو فراہم کیے گئے، جبکہ چاروں نیٹ ورکس کے سربراہوں اور ارکان کو گرفتار کرنے کے بعد مقدمہ فوجداری عدالت میں بھیج دیا گیا ہے۔

لیفیٹیننٹ جنرل عبداللہ مبارک بن عامر نے کہا کہ اس کامیابی میں وفاقی، مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان مربوط تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق کارروائی صرف ملزمان کی گرفتاری اور جرائم روکنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا مقصد مالی اثاثوں کو محفوظ بنانا اور ممکنہ معاشی و سکیورٹی نقصانات کو کم کرنا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو جرائم کے لیے استعمال کرنے والوں کا سراغ لگانے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے سکیورٹی ادارے مؤثر صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button