متحدہ عرب امارات

دبئی میں نئے شیئرڈ ہاؤسنگ قانون کا نفاذ، پرمٹ، معیار اور جرمانوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

خلیج اردو

دبئی میں مشترکہ رہائش یعنی Shared Housing کے انتظام اور استعمال کو منظم کرنے کے لیے نیا قانون نافذ کیا گیا ہے جس کا مقصد رہائشیوں اور پراپرٹی مالکان کے حقوق کا تحفظ، غیر ضروری ہجوم اور غیر رسمی رہائش کی روک تھام اور رہائشی عمارتوں میں حفاظتی معیار بہتر بنانا ہے۔

دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے جاری کردہ Law No. (4) of 2026 کے تحت کسی بھی یونٹ کو شیئرڈ ہاؤسنگ کے لیے پرمٹ کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

نئے قانون کے مطابق شیئرڈ ہاؤسنگ کے لیے یونٹ کو دبئی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے مقرر کردہ قواعد کے تحت پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ پرمٹ کے لیے عمارت کے تکنیکی معیار، رہائشیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد، فی فرد دستیاب جگہ اور مشترکہ سہولیات سمیت دیگر شرائط پوری کرنا لازمی ہوں گی۔

عام طور پر پرمٹ ایک سال کے لیے جاری اور اسی مدت کے لیے قابل تجدید ہوگا جبکہ مالکان دو سال کا پرمٹ بھی حاصل کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ پرمٹ کی تجدید کے لیے درخواست موجودہ پرمٹ کی میعاد ختم ہونے سے کم از کم 30 دن پہلے دینا ہوگی۔

قانون کے تحت شیئرڈ ہاؤسنگ یونٹ صرف پراپرٹی مالک یا لائسنس یافتہ ادارہ ہی لیز پر دے سکتا ہے۔ کرایہ دار یا کوئی دوسرا فریق یونٹ کے کسی حصے کو مزید کرائے پر نہیں دے سکے گا۔

شیئرڈ ہاؤسنگ یونٹس کے لیے عمارت، صحت، فائر سیفٹی، صفائی، سیکیورٹی اور بجلی سمیت تمام تکنیکی و حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔

قانون کی خلاف ورزی پر 500 درہم سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ ایک سال کے اندر دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ دگنا ہو کر زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ درہم تک پہنچ سکتا ہے۔

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ اضافی کارروائی بھی کر سکتا ہے جس میں سرگرمی کو 6 ماہ تک معطل کرنا، پرمٹ منسوخ کرنا، کمرشل لائسنس واپس لینا، خلاف ورزی دور ہونے تک عوامی خدمات منقطع کرنا یا غیر مجاز یونٹ کو خالی کرانے کا حکم دینا شامل ہے۔

قانون کے تحت شیئرڈ ہاؤسنگ سے متعلق تمام تنازعات دبئی رینٹل ڈسپیوٹس سینٹر میں طے کیے جائیں گے۔

قانون کے نفاذ سے پہلے شیئرڈ ہاؤسنگ چلانے والے مالکان اور اداروں کو اپنی یونٹس کو نئے ضوابط کے مطابق بنانے کے لیے ایک سال کی مہلت دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر دبئی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ایک مرتبہ اضافی مہلت بھی دی جا سکتی ہے۔

نیا قانون پرائیویٹ ڈویلپمنٹ زونز اور فری زونز سمیت ان مالکان، کرایہ داروں اور لائسنس یافتہ اداروں پر لاگو ہوگا جو شیئرڈ ہاؤسنگ یونٹس کو لیز یا مینج کرتے ہیں۔ تاہم اجتماعی مزدور رہائش کے یونٹس اس قانون کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔

دبئی میونسپلٹی کو پورے امارات میں شیئرڈ ہاؤسنگ کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ میونسپلٹی زیادہ سے زیادہ رہائشیوں کی تعداد، فی فرد جگہ اور مشترکہ سہولیات کے معیار طے کرے گی اور یہ بھی فیصلہ کرے گی کہ کن علاقوں میں شیئرڈ ہاؤسنگ کی اجازت ہوگی۔

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ شیئرڈ ہاؤسنگ کا الیکٹرانک رجسٹر برقرار رکھے گا جبکہ لیز اور مینجمنٹ معاہدوں میں مالک کی معلومات، رہائشیوں کی تعداد، یونٹ کی تفصیلات اور مختص جگہ سمیت دیگر معلومات شامل کرنا لازمی ہوگا۔

حکام کے مطابق قانون کا بنیادی مقصد دبئی میں شیئرڈ ہاؤسنگ کے انتظام اور رہائش کو منظم کرنا، رہائشی ماحول کو بہتر بنانا، گنجان آبادی اور غیر قانونی رہائش کو کم کرنا اور عمارتوں کے استعمال سے متعلق خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے۔

نیا قانون سرکاری گزٹ میں اشاعت کے 180 دن بعد باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button