متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں 3 میں سے 2 سے زائد امیدوار خراب انٹرویو کے بعد نوکری کی پیشکش مسترد کر دیتے ہیں

خلیج اردو
دبئی، 27 اکتوبر 2025: متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطیٰ میں پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد خراب انٹرویو تجربے کے بعد نوکری کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ عالمی ٹیلنٹ سلوشنز کمپنی رابرٹ والٹرز کی نئی تحقیق کے مطابق، خطے میں تقریباً 74 فیصد امیدواروں نے کسی نہ کسی وقت خراب انٹرویو کے بعد جاب آفر مسترد کی۔

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ خطے کے تقریباً نصف ہائرنگ مینیجرز نے کبھی انٹرویو لینے کی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی، جس کے باعث قابل اور تجربہ کار امیدوار کمپنیوں سے بدظن ہو کر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق امیدواروں کے لیے تین بڑی وجوہات انٹرویو کے بعد مایوسی کا باعث بنتی ہیں:

* غیر منظم شیڈولنگ یا ناقص انتظامی عمل (48 فیصد)
* ذمہ داریوں کی غیر واضح وضاحت (25 فیصد)
* کمپنی کی ثقافت یا اقدار سے منفی تاثر (18 فیصد)

رابرٹ والٹرز کے سی ای او گیریٹ بوکیرٹ کا کہنا ہے کہ "انٹرویو امیدوار اور کمپنی کے درمیان پہلا حقیقی رابطہ ہوتا ہے۔ معمولی غلطیاں یا غیر پیشہ ورانہ رویہ امیدوار کو کمپنی کے بارے میں منفی تاثر دے سکتا ہے۔”

تحقیق کے مطابق 41 فیصد امیدوار ایسے انٹرویو لینے والے کو تاخیر سے آنے پر غیر سنجیدہ سمجھتے ہیں، جبکہ ہر چار میں سے ایک امیدوار چند منٹوں میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ اس کمپنی کے ساتھ کام کرنا چاہے گا یا نہیں۔ مزید یہ کہ 79 فیصد امیدوار سمجھتے ہیں کہ درمیانے درجے کے عہدوں کے لیے دو یا اس سے کم انٹرویوز کافی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان مسائل کا حل پیشہ ورانہ انٹرویو اسٹرکچر اپنانا ہے۔ رابرٹ والٹرز کی گائیڈ کے مطابق اداروں کو انٹرویو سے پہلے عہدے اور امیدوار کے پروفائل کا جائزہ لینا چاہیے، وقت پر آغاز کرنا چاہیے، واضح اور منظم سوالات پوچھنے چاہئیں اور بروقت فیڈبیک دینا چاہیے۔

گیریٹ بوکیرٹ کا کہنا تھا کہ "اداروں کے پاس انٹرویو کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنانے کا موقع ہے۔ اگر مینیجرز کو مناسب تربیت اور تیاری فراہم کی جائے تو امیدواروں کی شمولیت بڑھے گی، قبولیت کی شرح میں اضافہ ہوگا، اور بہترین ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button