عالمی خبریں

بھارت: طلبہ احتجاج کامیاب، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی

خلیج اردو
بھارت میں نیٹ (NEET) سمیت اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ احتجاج رنگ لے آیا۔ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔

نئی دہلی میں ہزاروں طلبہ کئی روز سے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کر رہے تھے۔ گزشتہ روز حکومت سے مذاکرات کے بعد طلبہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج پورے بھارت میں پھیلا دیا جائے گا۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوان طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت اور نوجوانوں کی جدوجہد کی بڑی کامیابی ہے، اب حکومت کو عوام کی آواز سننا ہوگی۔

نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ طور پر پیلٹ گنز کے استعمال نے بھارت میں نیا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مبینہ طور پر پیلٹ گنز استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔

دہلی پولیس نے پیلٹ گنز کے استعمال کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ سی آر پی ایف نے واقعے کی تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔ اس معاملے پر حکومت اور سکیورٹی اداروں کے مؤقف میں بھی تضاد سامنے آیا ہے۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف طلبہ پرامن احتجاج کر رہے تھے لیکن پولیس نے ہزاروں طلبہ پر لاٹھی چارج کیا اور ایک نوجوان کی آنکھ پیلٹ لگنے سے ضائع ہو گئی۔

رپورٹس کے مطابق پیپر لیکس کے خلاف احتجاج نئی دہلی سے دیگر بھارتی شہروں تک پھیل چکا ہے، جبکہ بڑھتے عوامی احتجاج اور اندرونی مسائل کے باعث مودی حکومت کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button