متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی گرمی میں گاڑی کو محفوظ رکھنے کے لیے 6 اہم احتیاطی تدابیر

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے باعث ماہرین نے گاڑی مالکان کو خبردار کیا ہے کہ معمولی فنی خرابیاں بروقت دور نہ کی جائیں تو وہ مہنگی مرمت اور انجن کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔

دبئی کے ایک رہائشی عبدالعزیز کو گھر واپسی کے دوران گاڑی سے جلنے کی بو محسوس ہوئی۔ ورکشاپ میں معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ گاڑی میں کولنٹ کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی تھی، جس کی بروقت نشاندہی سے انجن کو شدید نقصان سے بچا لیا گیا۔

ماہرین کے مطابق گرمیوں میں گاڑی کے کولنگ سسٹم، بیٹری، ٹائروں، ربڑ کی پائپوں اور انجن پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، اس لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

کولنگ سسٹم کا باقاعدگی سے معائنہ کریں

کولنٹ کی سطح باقاعدگی سے چیک کریں اور معمولی لیک کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ ریڈی ایٹر کی صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ گرد اور ریت اس کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے۔

انجن کے اندر کسی بھی قسم کے لیکج کو نظر انداز نہ کریں

ہفتے میں ایک بار بونٹ کھول کر کولنٹ، انجن آئل یا ایندھن کے رساؤ، خراب پائپوں اور تاروں کا معائنہ کریں۔ معمولی لیک بھی بعد میں بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

بیٹری کی جانچ ضرور کرائیں

یو اے ای کی شدید گرمی بیٹری کی عمر کم کر دیتی ہے۔ اگر بیٹری کو تین سال یا اس سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے تو اس کا ٹیسٹ ضرور کرائیں تاکہ اچانک گاڑی بند ہونے سے بچا جا سکے۔

ٹائروں کا ہوا کا دباؤ صبح کے وقت چیک کریں

گرمی میں ٹائروں کا پریشر خود بخود بڑھ جاتا ہے، اس لیے گاڑی چلانے سے پہلے ٹھنڈے ٹائروں میں کمپنی کی تجویز کردہ مقدار کے مطابق ہوا چیک کریں۔

بیلٹس، پائپوں اور برقی تاروں کا معائنہ کریں

شدید گرمی میں ربڑ کے پرزے کمزور ہو سکتے ہیں جبکہ خراب یا ڈھیلی برقی تاریں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی غیر معمولی بو یا خراب تار کی صورت میں فوری معائنہ کرائیں۔

ریڈی ایٹر اور انجن کے حصے کی صفائی کریں

ریڈی ایٹر اور انجن کے اردگرد جمع گرد، ریت، پتے یا دیگر کچرا صاف کریں تاکہ ہوا کی روانی برقرار رہے اور انجن بہتر انداز میں ٹھنڈا ہو سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کی اگلی سروس کا انتظار کرنے کے بجائے باقاعدگی سے مختصر معائنہ کرنے سے بڑی خرابیوں سے بچا جا سکتا ہے، کیونکہ زیادہ تر مسائل اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ پہلے ہی اپنی علامات ظاہر کر دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button