متحدہ عرب امارات

دو نرسز نے پہلی پرواز میں 35 ہزار فٹ کی بلندی پر مسافر کی جان بچالی

خلیج اردو
ابوظہبی، 29 اکتوبر 2025
بھارت کی ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان نرسز نے اپنی پہلی بین الاقوامی پرواز میں 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک مسافر کی جان بچا کر پیشہ وارانہ جذبے کی اعلیٰ مثال قائم کر دی۔

26 سالہ ابھجیت جیس اور 29 سالہ اجیش نیلسن ابوظہبی میں ریسپانس پلس میڈیکل (آر پی ایم) میں اپنی ملازمت شروع کرنے جا رہے تھے۔ 13 اکتوبر کی صبح 5 بج کر 30 منٹ پر کوچین سے اڑان بھرنے والی پرواز میں جب زیادہ تر مسافر سو رہے تھے، اچانک جہاز کے ایک حصے سے ہلکی سی آواز آئی—کوئی سانس لینے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔

ابھجیت نے بتایا کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنی نشست پر جھکا ہوا اور بے ہوش دیکھا۔ نبض چیک کرنے پر احساس ہوا کہ وہ دل کے دورے میں مبتلا ہیں۔ فوراً جہاز کے درمیانی راستے میں کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) شروع کر دی گئی۔ اسی دوران چند قطار پیچھے بیٹھے اجیش بھی مدد کے لیے پہنچ گئے۔

دونوں نرسز نے باری باری سینے پر دباؤ ڈالنا شروع کیا، کیبن کریو نے راستہ خالی کرایا اور دیگر مسافر پریشانی کے عالم میں منظر دیکھتے رہے۔ دو مرحلوں کے بعد مریض میں حرکت کے آثار پیدا ہوئے اور سانس بحال ہو گئی۔

پرواز میں موجود ڈاکٹر عارف عبد الخادر بھی مدد کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے نرسز کے ساتھ مل کر مریض کو مستحکم کیا، آئی وی فلوئڈز دیے اور باقی سفر کے دوران اس کی حالت پر نظر رکھی۔

ابوظہبی پہنچنے پر ایئرپورٹ کی طبی ٹیم نے مریض کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کی حالت بعد ازاں مستحکم بتائی گئی۔

بعد ازاں آر پی ایم کے ساتھی مسافر برنٹ اینٹو نے واقعہ کمپنی انتظامیہ کو بتایا تو ادارے نے دونوں نرسز کو اس بہادری اور پیشہ ورانہ کارکردگی پر تعریفی اسناد سے نوازا۔

آر پی ایم کے سی ای او ڈاکٹر روحیل راگھون نے کہا کہ دونوں نرسز نے اسپتال سے باہر بھی خدمتِ انسانیت کی روح کو زندہ کیا ہے۔ ادارے کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علی کے مطابق، دل کے دورے کے دوران فوری ردعمل زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ کن فرق پیدا کر سکتا ہے۔

بچائے گئے مریض کے اہل خانہ نے دونوں نرسز اور ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ہمارے لیے اجنبی تھے مگر انہوں نے ہمارے پیارے کو نئی زندگی دی۔

ابھجیت اور اجیش، جو اب ابوظہبی میں اپنے نئے سفر کا آغاز کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ان کے پیشے کے مفہوم کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
"ہم یہاں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے آئے تھے، مگر راستے میں ایک جان بچانا ہمارے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بن گیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button