متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کو اب صرف ای پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم تمام بھارتی شہریوں کو اب نئے نظام کے تحت صرف ای پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ یہ بات جمعرات کو دبئی میں قائم بھارتی قونصلیٹ جنرل کے حکام نے تصدیق کی۔ بھارتی حکومت نے ای پاسپورٹ سسٹم کا عالمی سطح پر آغاز 28 اکتوبر سے کیا ہے۔

ای پاسپورٹ ایک ایسا سفری دستاویز ہے جو کاغذی اور الیکٹرانک دونوں خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ اس میں ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹی فکیشن (RFID) چِپ اور اینٹینا نصب ہوتا ہے جس میں پاسپورٹ ہولڈر کی ذاتی معلومات اور بائیو میٹرک ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق، نئے نظام کے تحت کچھ مقامی رہائشیوں کو پہلے ہی آر ایف آئی ڈی چِپ والے پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ اب تمام درخواست گزاروں کو پاسپورٹ سیوا پروگرام (GPSP 2.0) کے ذریعے درخواست دینا ہوگی، جس سے درخواست کا عمل مزید تیز ہو جائے گا۔

بھارت کے قائم مقام سفیر اے امرناتھ نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت درخواست گزار محض دو منٹ میں اپنی تفصیلات مکمل کر سکیں گے۔ ان کے مطابق، "درخواست گزار کو صرف اپنا پرانا پاسپورٹ نمبر درج کرنا، تصدیقی عمل مکمل کرنا اور درخواست جمع کرانا ہوگا۔”

بھارتی قونصل جنرل ستیس سیوان نے بتایا کہ جن افراد نے پہلے ہی پاسپورٹ کی تجدید کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں، انہیں اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو اپنی موجودہ درخواست پر عمل جاری رکھیں یا نئے آن لائن پورٹل کے ذریعے دوبارہ فارم جمع کرائیں۔ ان کے مطابق، "جو پرانی درخواست برقرار رکھیں گے انہیں روایتی کاغذی پاسپورٹ ملے گا، جبکہ آن لائن سسٹم کے ذریعے درخواست دینے والے کو ای پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔”

نئے ای پاسپورٹ سسٹم کے تحت درخواست دہندگان کو GPSP 2.0 کے جدید پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی دستاویزات اپ لوڈ کرنی ہوں گی، جس سے BLS مراکز پر انتظار کا دورانیہ کم ہوگا۔ تمام درخواست گزاروں کے لیے نیا پورٹل [https://mportal.passportindia.gov.in/gpsp/AuthNavigation/Login](https://mportal.passportindia.gov.in/gpsp/AuthNavigation/Login) لازمی قرار دیا گیا ہے۔

امرناتھ کے مطابق، پاسپورٹ میں نصب چِپ سے دستاویز کی سیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی اور کسی بھی جعل سازی یا جعل شدہ پاسپورٹ کو امیگریشن کے دوران فوری طور پر شناخت کیا جا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ای پاسپورٹ کے لیے بین الاقوامی معیار (ICAO) کے مطابق بائیو میٹرک تصویر درکار ہوگی، تاہم فی الحال بیرون ملک فنگر پرنٹس یا دیگر جسمانی بائیومیٹرکس جمع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ پاسپورٹ کے اجراء کے وقت یا فیس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button