متحدہ عرب امارات

دبئی کی ’20 منٹ سٹی‘ منصوبہ بندی: سفر میں کمی، اربوں کی بچت

 

خلیج اردو

دبئی: دبئی تیزی سے اپنے وژن ’20 منٹ سٹی‘ کو حقیقت میں بدل رہا ہے، جہاں شہری 20 منٹ میں 80 فیصد ضروری مقامات تک مربوط سفری نظام کے ذریعے پہنچ سکیں گے۔

یہ تبدیلی دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کی دو دہائیوں پر مشتمل حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مرکز دبئی میٹرو ہے۔ اس منصوبے نے شہری زندگی کے انداز کو بدل دیا ہے، سفر کے اوقات کم کیے ہیں اور معیشت میں نمایاں فوائد حاصل کیے ہیں۔

آر ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ مک کینزی اینڈ کمپنی کے معاشی اثرات پر مبنی تازہ مطالعے کے مطابق، ’20 منٹ سٹی‘ کا وژن دبئی کو پائیدار، مربوط اور جدید شہری طرزِ زندگی کی عالمی مثال بنا رہا ہے۔ سڑکوں، میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ پر اسٹریٹجک سرمایہ کاری نے روزمرہ نقل و حرکت بہتر بنائی، رئیل اسٹیٹ کی قدر بڑھائی، وقت اور ایندھن میں اربوں درہم بچائے اور دبئی کو رہائش، کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کر دیا۔

معاشی فوائد
رپورٹ کے مطابق، دبئی کے ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر منصوبوں نے 150 ارب درہم کی براہِ راست آمدنی پیدا کی، ایندھن اور وقت کی بچت میں 319 ارب درہم کا فائدہ دیا، 156 ارب درہم دبئی کی جی ڈی پی میں شامل کیے اور جائیدادوں کی قیمتوں میں اوسطاً 16 فیصد (یعنی 158 ارب درہم) اضافہ کیا۔

آر ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل مطر الطایر کے مطابق، "ان منصوبوں پر سرمایہ کاری کی اندرونی شرحِ منافع 5 فیصد ہے، جو دبئی کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور مؤثر عمل درآمد کی عکاسی کرتی ہے۔”

میٹرو کی قیادت میں شہری ترقی
2009 میں آغاز کے بعد دبئی میٹرو نے اب تک کل سفر کے فاصلے میں تقریباً 29.8 ارب کلومیٹر کی کمی کی ہے۔ یہ میٹرو نیٹ ورک ڈاؤن ٹاؤن دبئی، بزنس بے، دبئی مرینا، جمیرا لیک ٹاورز اور بر دبئی جیسے اہم مراکز کو جوڑتا ہے، جس سے سفر تیز، صاف اور آرام دہ ہوا ہے۔

2029 میں 20.5 ارب درہم کی لاگت سے مکمل ہونے والی "بلو لائن” اس مربوط نظام کو مزید مضبوط کرے گی۔ یہ لائن میٹرو، بس، ٹیکسی، میری ٹرانسپورٹ اور مستقبل کے ٹرانسپورٹ حلوں کو جوڑ کر شہریوں کو اسکولوں، دفاتر، مارکیٹوں اور اسپتالوں تک منٹوں میں رسائی فراہم کرے گی۔

جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ
میٹرو اسٹیشنز اور اہم شاہراہوں کے قریب علاقوں جیسے ڈاؤن ٹاؤن دبئی، بزنس بے، دبئی مرینا، البرشہ اور جمیرا لیک ٹاورز میں جائیداد کی قیمتیں اوسط مارکیٹ سے 6 سے 16 فیصد زیادہ بڑھی ہیں۔ جدید انفراسٹرکچر نے دبئی کو رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔

عالمی معیار کی سفری کارکردگی
دبئی کا ٹریول ٹائم انڈیکس (TTI) 2014 میں 1.28 سے کم ہو کر 2024 میں 1.23 پر آگیا ہے، جو سڈنی، مونٹریال، برلن، روم اور میلان جیسے شہروں سے بہتر ہے۔ دبئی میں 10 کلومیٹر کا سفر اب اوسطاً 13.7 منٹ میں مکمل ہوتا ہے، جبکہ دیگر بڑے شہروں میں یہی فاصلہ 15.9 منٹ میں طے ہوتا ہے۔

مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ دبئی میٹرو کی تعمیر دیگر شہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم لاگت پر مکمل ہوئی، لندن کے مقابلے میں 36 فیصد اور سڈنی کے مقابلے میں 55 فیصد کم، جو آر ٹی اے کی مؤثر منصوبہ بندی اور اعلیٰ معیار کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button