متحدہ عرب امارات

دھاراوی ری ڈیولپمنٹ منصوبہ: دبئی کمپنی نے بھارت کی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

خلیج اردو
ممبئی: بھارت کے سب سے بڑے ری ڈیولپمنٹ منصوبے ’’دھاراوی‘‘ کے تنازع نے نیا رخ اختیار کرلیا، دبئی میں رجسٹرڈ کمپنی ’’سیکلِنک ٹیکنالوجیز کارپوریشن‘‘ نے منصوبے کے منسوخ ہونے کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ منصوبے کی سب سے بڑی بولی دہندہ تھی مگر کامیابی کے بعد قواعد تبدیل کر دیے گئے تاکہ اسے عمل سے باہر رکھا جا سکے۔

دھاراوی، جو ممبئی کے وسط میں تقریباً 2.4 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، دنیا کی سب سے بڑی غیر رسمی آبادیوں میں سے ایک ہے جہاں ایک ملین سے زائد لوگ رہائش پذیر ہیں۔ یہ علاقہ فلم ’’سلم ڈاگ ملینیئر‘‘ کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کرچکا ہے۔

ری ڈیولپمنٹ منصوبہ طویل المدتی طور پر 125 ارب درہم سے زائد مالیت کا ہے اور اسے ایشیا کے سب سے زیادہ زیرِ غور شہری ترقیاتی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سیکلِنک کے چیئرمین نیلانگ شاہ نے ’’خلیج ٹائمز‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ کمپنی نے منصوبے کے لیے 4 ارب ڈالر (13.5 ارب درہم) بطور بینک گارنٹی مختص کیے تھے، تاہم ٹینڈر منسوخ ہونے سے یہ سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2018 میں مہاراشٹرا حکومت نے عالمی بولیاں طلب کیں، جس میں سیکلِنک نے سب سے بڑی بولی تقریباً 3 ارب درہم کی پیش کی تھی۔ لیکن حتمی معاہدے سے قبل ریاستی حکومت نے یہ عمل منسوخ کر دیا۔ دو سال بعد نیا ٹینڈر جاری کیا گیا جس کے نئے قواعد کے باعث سیکلِنک اہل نہ رہی۔

نیا ٹھیکہ بعد ازاں اَدانی گروپ کے اشتراکی منصوبے کو دے دیا گیا۔ سیکلِنک نے 2024 میں بمبئی ہائیکورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے قانون کے مطابق عمل کیا ہے۔

اب سیکلِنک نے سپریم کورٹ میں مؤقف اپنایا ہے کہ نیا ٹینڈر اس کے خلاف ’’غیر منصفانہ طریقے سے تیار‘‘ کیا گیا۔ مارچ 2025 کی سماعت میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نئی شرائط واقعی اس طرح ’’تبدیل‘‘ کی گئی معلوم ہوتی ہیں کہ سیکلِنک دوبارہ حصہ نہ لے سکے۔ عدالت نے تمام اصل ریکارڈ پیش کرنے اور منصوبے سے متعلق مالیات کو عدالتی نگرانی میں رکھنے کا حکم بھی دیا۔

سپریم کورٹ نے مزید ہدایت کی ہے کہ منصوبے کی تمام فائلیں، نوٹنگز اور سرکاری مراسلت عدالت میں پیش کی جائیں، جبکہ تمام ادائیگیاں ایک مانیٹر شدہ اکاؤنٹ کے ذریعے ہوں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

کیس کی اگلی سماعت 13 نومبر کو مقرر ہے، جس میں مہاراشٹرا حکومت مکمل ریکارڈ جمع کرائے گی اور سیکلِنک اپنے دلائل جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button