متحدہ عرب امارات

سی بی ایس ای گلوبل نصاب: نیا تعلیمی منصوبہ 2026 میں متوقع، مسودہ تیاری کے مرحلے میں

خلیج اردو
دبئی: خلیجی ممالک کی وزارت ہائے تعلیم کے اعلیٰ حکام، جن میں عمان، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (دبئی — KHDA، ابوظبی — ADEK، شارجہ — SPEA) شامل ہیں، نے دبئی میں سہوڈیا اسکول کمپلیکسز کی سالانہ کانفرنس کے افتتاحی روز بھارتی تعلیمی بورڈ سی بی ایس ای (CBSE) کے سینئر عہدیداران اور بھارت کے قونصل جنرل سے ملاقات کی۔

اجلاس میں “سی بی ایس ای گلوبل نصاب” کے مجوزہ منصوبے پر تفصیلی بات چیت کی گئی، جو بھارتی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے مطابق ایک جامع اصلاحاتی اقدام کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد بیرونِ ملک سی بی ایس ای سے منسلک اسکولوں کو ایک لچک دار اور عالمی معیار کا نصاب فراہم کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق، دیگر بین الاقوامی تعلیمی بورڈز سے منسلک اسکولوں کو بھی اس نصاب کو اپنانے کا اختیار حاصل ہوگا، جبکہ بھارت کے اندر موجود سی بی ایس ای اسکول بھی اسے نافذ کر سکیں گے۔

ماضی کی جھلک: سی بی ایس ای-انٹرنیشنل (CBSE-i)
یہ پہلا موقع نہیں جب سی بی ایس ای نے عالمی معیار کا نصاب متعارف کرانے کی کوشش کی ہو۔ 2010 میں “سی بی ایس ای-انٹرنیشنل” پروگرام محدود پیمانے پر شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد تحقیق، تنقیدی سوچ، اور بین المضامینی مطالعے پر مبنی نظام تعلیم فراہم کرنا تھا، تاہم انتظامی چیلنجز اور محدود پذیرائی کے باعث 2017 میں یہ پروگرام بند کر دیا گیا۔

کانفرنس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، سی بی ایس ای کے ریجنل ڈائریکٹر دبئی، پروفیسر ڈاکٹر رام شنکر نے بتایا کہ نیا گلوبل نصاب فی الحال مسودہ مرحلے میں ہے۔ اُنہوں نے کہا، “یہ نصاب خاص طور پر غیر ملکی سی بی ایس ای اسکولوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی ضروریات اور عالمی معیار کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ اس میں انفراسٹرکچر، قواعد، تدریسی طریقے، اساتذہ کی اہلیت اور تعلیمی کلینڈر سمیت مختلف پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ نصاب کی تیاری کے دوران متعلقہ ریگولیٹرز اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، تاہم اس کے نفاذ کی حتمی تاریخ کا فی الحال تعین نہیں کیا جا سکتا۔

خلیجی ممالک کا تعاون
اجلاس کے دوران خلیجی ممالک کے ریگولیٹرز نے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے اساتذہ کی تربیت، پیشہ ورانہ تعلیم اور نصاب کی مقامی ضروریات کے مطابق تشکیل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ریگولیٹرز نے اساتذہ کی اہلیت، تعلیمی مساوات اور سی بی ایس ای سرٹیفکیٹس کی عالمی سطح پر تسلیم شدگی پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے سی بی ایس ای کے تعلیمی معیار، معیاری نظم و ضبط، اور مناسب فیسوں کے توازن کو قابلِ تعریف قرار دیا۔

تقریب میں “سی بی ایس ای ہولسٹک پروگریس کارڈ (مڈل اسٹیج)” کا بھی اجرا کیا گیا، جو نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق کثیر جہتی تعلیمی جانچ کے فروغ کا حصہ ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button