
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں آئندہ آٹھ برسوں میں 60 نئے کم لاگت والے اسکول قائم کرنے کے منصوبے کو ماہرین تعلیم نے ایک "گیم چینجر” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف والدین کے لیے بہتر تعلیمی انتخاب کے مواقع بڑھیں گے بلکہ شہر میں تعلیم کے مجموعی معیار میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ منصوبہ دبئی ایگزیکٹو کونسل نے ‘پالیسی ٹو ایکسپینڈ اینڈ پروموٹ افورڈیبل ہائی کوالٹی اسکولز’ کے تحت منظور کیا ہے، جس کا مقصد اگلی دہائی میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار طلبہ کو تعلیم کی فراہمی ہے۔ یہ پالیسی دبئی ایجوکیشن اسٹریٹجی 2033 کا ایک اہم ستون ہے، جس کا ہدف دبئی کو تعلیم کے معیار کے لحاظ سے دنیا کے دس بہترین شہروں میں شامل کرنا ہے۔
سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے فیسوں اور زمین کے کرایوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کم لاگت والے اسکول تعلیمی معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر قائم کیے جا سکیں۔
جیمز ایجوکیشن کے سی ای او ڈینو ورکی نے کہا کہ یہ اقدام دبئی کے تعلیمی وژن سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، "جب زیادہ خاندانوں کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ یہ کمیونٹی کو مضبوط کرتا ہے اور بچوں کو اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچنے کا موقع دیتا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ اصل چیلنج معیار کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم کو سستی بنانا ہے۔ "ہماری کامیابی اس بات میں ہے کہ اخراجات کم کرنے کے بجائے کلاس روم میں قدر پیدا کرنے پر توجہ دیں۔”
انڈین ہائی گروپ آف اسکولز کے سی ای او پُنیت ایم کے واسو نے کہا کہ ان کا ادارہ سات سال سے بغیر فیس بڑھائے 550 درہم ماہانہ میں تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے طویل المدتی منصوبہ بندی، مؤثر انتظامی نظام اور پائیدار مالی حکمتِ عملی سے توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "تعلیم کی لاگت صرف ٹیوشن فیس تک محدود نہیں، بلکہ ٹرانسپورٹ، کتابوں، یونیفارم اور کھیلوں کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔”
ایپل انٹرنیشنل کمیونٹی اسکول کی پرنسپل پریٹی کھوسلا نے کہا کہ "نئے اسکولوں کے قیام سے جدت، مسابقت اور والدین کے انتخاب میں اضافہ ہوگا۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے لاگت کو متوازن رکھا جائے اور بہترین اساتذہ کو متوجہ کیا جائے۔”
ووڈلم ایجوکیشن کے بانی نوفل احمد نے کہا کہ "دبئی کا نیا تعلیمی منصوبہ ایک نئی شمولیتی نجی تعلیم کے دور کا آغاز ہے۔” ان کے مطابق "یہ پالیسی زیادہ خاندانوں کو نجی تعلیم تک رسائی دے گی، جس سے ایک زیادہ متوازن اور متنوع تعلیمی نظام تشکیل پائے گا۔”
دبئی کی یہ نئی تعلیمی پالیسی شہر کے تعلیمی منظرنامے کو وسعت دینے، معیار بلند کرنے اور تمام بچوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔







