
ابوظہبی: خلیج اردو
العین میں ایک افسوسناک واقعے میں چھ سالہ بچہ اپنے گھر کے واٹر ٹینک میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ عربی اخبار ’الخلیج‘ کے مطابق بچہ، جس کا نام عیسیٰ تھا، اپنی بہن کے ساتھ گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔
بچے کے والد، جو مقامی مسجد میں امام اور قرآن کے استاد ہیں، نے بتایا کہ حادثے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل وہ بچوں کے ساتھ صحن میں موجود تھے۔ “میں نے جب کام کے لیے گھر سے نکلنا تھا تو بچوں کو اندر صحن میں بٹھایا اور دروازہ بند کر دیا تاکہ وہ باہر نہ جائیں،” والد نے بتایا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ دیر بعد ان کی اہلیہ نے فون پر روتے ہوئے اطلاع دی کہ عیسیٰ کا انتقال ہو گیا ہے۔ “میں فوراً گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ عیسیٰ کو اسپتال لے جایا گیا تھا، لیکن وہاں پہنچنے پر بتایا گیا کہ وہ جاں بحق ہوچکا ہے۔”
عیسیٰ کی والدہ کے مطابق بچے صحن میں کھیل رہے تھے اور وہ اندر سے ان پر نظر رکھے ہوئے تھیں، مگر چند لمحوں کے لیے ان کی نظر ہٹی تو اچانک بیٹی کی چیخ سنی کہ “عیسیٰ گڑھے میں گر گیا۔” وہ دوڑ کر باہر آئیں تو دیکھا کہ عیسیٰ پانی کے اس ٹینک میں گرا ہوا ہے جو جزوی طور پر زمین میں دھنسا ہوا اور کھلا ہوا تھا۔ محلے داروں نے مدد کر کے بچے کو نکالا اور ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹرز نے اسے مردہ قرار دیا۔
بچے کی نمازِ جنازہ جمعرات کو نمازِ ظہر کے بعد مسجد حمودہ بن علی، علاقے الجیمی میں ادا کی گئی، جس کے بعد تدفین الفوعہ قبرستان میں عمل میں آئی۔ عیسیٰ محمد بن خالد اسکول کے پہلے درجے کے طالب علم تھے۔
گزشتہ ماہ بھی فجیرہ میں ایک دو سالہ بچہ ایک فارم ہاؤس کے پرائیویٹ پول میں ڈوب کر جاں بحق ہوا تھا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گھروں اور کمیونٹی پولز کے بڑھتے استعمال سے بچوں، خصوصاً پانچ سال سے کم عمر کے لیے، ڈوبنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔







