متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں فری لانسرز نے خود روزگاری ویزوں کی سخت جانچ پڑتال کا خیرمقدم کیا

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں فری لانسرز نے حکومت کی جانب سے خود روزگاری (فری لانس) ویزوں کی سخت جانچ پڑتال کے فیصلے کو مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے درخواست کے عمل کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دبئی کے میڈیا پروفیشنل احمد سلیم نے کہا کہ وہ اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس سے صرف حقیقی فری لانسرز کو فائدہ ملے گا۔ ان کے بقول، ’’سخت چیکس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں، یہ اچھا ہے کیونکہ اب نظام ان لوگوں کے لیے ہے جو واقعی فری لانس کام کر رہے ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ عمل مزید شفاف ہو تاکہ درخواست گزاروں کو مکمل علم ہو کہ ان سے کیا تقاضا کیا جا رہا ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے واضح کیا کہ فری لانس ویزا، جسے "گرین ریذیڈنسی” بھی کہا جاتا ہے، بدستور دستیاب ہے۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ غلط استعمال کی روک تھام، حقوق کے تحفظ اور تیزی سے پھیلتے ہوئے مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے جانچ اور آڈٹ کے عمل کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

ویزہ ماہرین کے مطابق، یہ اضافی چیکس نظام کی پختگی کی علامت ہیں۔ دبئی کے ویزہ کنسلٹنٹ ایشان اے نے کہا کہ کچھ افراد نے غیر تصدیق شدہ ایجنسیوں یا جعلی کمپنیوں کے ذریعے ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس لیے حکومت نے عمل کو سخت کیا ہے تاکہ صرف مستند فائلوں کو منظوری ملے۔

کچھ فری لانسرز کا کہنا ہے کہ نیا عمل وقت طلب ضرور ہے مگر اس سے شفافیت اور اعتماد بڑھے گا۔ ایک خاتون فری لانسر ریشل (فرضی نام) نے بتایا کہ انہیں مطلوبہ دستاویزات کے بارے میں متضاد معلومات ملیں، ’’کسی ایجنسی نے کہا کہ ٹریڈ لائسنس درکار ہے، کسی نے کہا نہیں۔ ہمیں بس ایک واضح اور تازہ فہرست چاہیے تاکہ ہم درست طریقہ کار پر عمل کر سکیں۔‘‘

حکام کا کہنا ہے کہ سخت جانچ کا مقصد مواقع محدود کرنا نہیں بلکہ فری لانسر نظام کو مستحکم اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ فری لانس ویزہ کے تحت افراد بغیر اسپانسر کے خود کام کر سکتے ہیں، تاہم وہ ملازم بھرتی یا کسی دوسرے کو اسپانسر نہیں کر سکتے۔

ریشل نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہیں، ہمیں بس اتنا چاہیے کہ معلومات واضح ہوں اور ٹائم لائنز متوقع ہوں تاکہ ہم اپنے کام کی منصوبہ بندی اعتماد سے کر سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button