متحدہ عرب امارات

جی سی سی کا ’’ون اسٹاپ‘‘ سفری نظام؛ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں دسمبر میں پائلٹ مرحلہ

خلیج اردو
کویت سٹی: خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایک ’’ون اسٹاپ‘‘ سفری نظام کی منظوری دی ہے جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سفر کو آسان اور ہموار بنانا ہے، اور اس منصوبے کے پہلے پائلٹ مرحلے کے لیے متحدہ عرب امارات اور بحرین کو منتخب کیا گیا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت خلیجی شہری ایک ہی چیک پوائنٹ پر تمام سفری کارروائیاں مکمل کر سکیں گے، جس سے آمد پر متعدد انسپیکشنز کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اس میں امیگریشن، کسٹمز اور سیکیورٹی چیکس شامل ہیں۔

جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البودائیوی نے کویت سٹی میں بدھ کے روز منعقدہ 42ویں اجلاس میں اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پائلٹ مرحلہ دسمبر 2025 میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان فضائی سفر کے لیے شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پائلٹ کامیاب رہا تو اس نظام کو تمام چھ رکن ممالک میں بڑھایا جائے گا۔ عرب میڈیا کے مطابق مسافر روانگی سے قبل تمام انٹری اور ایگزٹ چیکس مکمل کر سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ آمد پر انہیں بالکل گھریلو پرواز کی طرح ٹریٹ کیا جائے گا۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی بلاک ایک اور بڑے انضمامی منصوبے — متحدہ جی سی سی سیاحتی ویزا — کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے۔ پائلٹ مرحلہ اس سال کے چوتھے سہ ماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کی تصدیق متحدہ عرب امارات کے وزیر اقتصادیات اور سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے کی۔

عبداللہ بن طوق المری کے مطابق متحدہ ویزا، جسے ’’جی سی سی گرینڈ ٹورسٹ ویزا‘‘ کے نام سے جانا جائے گا، ایک ’’اسٹریٹجک قدم ہے جو علاقائی انضمام کو گہرا کرے گا اور خلیج کو ایک مشترکہ سیاحتی مقام کے طور پر مزید پرکشش بنائے گا‘‘۔

سعودی وزیر سیاحت احمد الخطيب نے رائٹرز کو بتایا کہ خلیج بھر میں یہ ویزا 2026 میں مکمل طور پر نافذ ہو سکتا ہے یا 2027 تک یقینی طور پر فعال ہو جائے گا۔

’’ون اسٹاپ‘‘ سفری نظام اور متحدہ سیاحتی ویزا کے ساتھ مل کر توقع کی جا رہی ہے کہ خلیج کے اندر اور بیرونی سفر کو تبدیل کریں گے، اور ایک ایسا خطہ فراہم کریں گے جہاں شہری، مقیم اور بین الاقوامی زائرین بغیر رکاوٹ سرحدیں عبور کر سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button